راکھا

by Other Authors

Page 68 of 183

راکھا — Page 68

یہ عورتوں کے حق مہر اور مال و متاع کے متعلق احکاماتِ خدا وندی ہیں۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”یہاں تک عورتوں کے حقوق ہیں کہ مرد کو کہا گیا ہے کہ ان کو طلاق دو تو مہر کے علاوہ ان کو کچھ اور بھی دو کیونکہ اُس وقت تمہاری ہمیشہ کیلئے اُس سے جدائی لازم ہوتی ہے۔پس لازم ہے کہ اُن کے ساتھ نیک سلوک کرو۔“ ( ملفوظات جلد ۸ صفحه ۴۴۲) اب کہاں یہ احکامات اور ارشادات اور کہاں بعض لوگوں کا عمل کہ علیحدگی کے وقت محض عورت کو ذلیل کرنے کیلئے مہر بھی چھوٹی چھوٹی اقساط میں دینا چاہتے ہیں۔دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ نے ہر جہت سے مرد کو عورت کے ساتھ لطف اور احسان کا سلوک کرنے کیلئے پابند کر رکھا ہے۔پس مرد کا فرض ہے کہ وہ بیوی کے حق مہر کے بارے میں احکامات خداوندی کی پابندی کرے۔قوام ہونے کے تقاضے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَّ بِمَا أَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمُ : ( النساء آیت (۳۵) ترجمہ: ”مرد عورتوں پر نگران ہیں اُس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بخشی ہے۔اور اس وجہ سے بھی کہ وہ 66 اپنے اموال ( ان پر ) خرچ کرتے ہیں۔“ یہ وہ آیت ہے جو عموماً مردوں کو بہت پسند ہے اور ایک بڑی تعداد کے ذہنوں میں یہ اثر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عورتوں پر حاکم مقرر فرما دیا ہے اس لئے انہیں اختیار ہے کہ وہ جیسا چاہیں اُن سے سلوک کریں۔حالانکہ یہ بات نہ تو قانونی لحاظ سے درست ہے اور نہ ہی اخلاقی 68