راکھا

by Other Authors

Page 67 of 183

راکھا — Page 67

ترجمہ: ” اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم اُس میں سے کچھ بھی واپس لو جو تم انہیں دے چکے ہو۔سوائے اس کے کہ وہ دونوں خائف ہوں کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔اور اگر تم خوف محسوس کرو کہ وہ دونوں اللہ کی مقررہ حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں اس (مال کے ) بارہ میں جو وہ عورت ( قضیہ نپٹانے کی خاطر مرد کے حق میں ) چھوڑ دے۔تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو جبکہ تم نے ابھی انہیں چھوا نہ ہو یا ابھی تم نے ان کے لئے حق مہر مقرر نہ کیا ہو۔اور انہیں کچھ فائدہ بھی پہنچاؤ۔صاحب حیثیت پر اس کی حیثیت کے مطابق فرض ہے اور غریب پر اس کی حیثیت کے مناسب حال۔( یہ ) معروف کے مطابق کچھ متاع ہو۔احسان کرنے والوں پر تو ( یہ ) فرض ہے۔اور اگر تم انہیں اس سے پیشتر طلاق دے دو کہ تم نے انہیں چھوا ہو، جبکہ تم ان کا حق مہر مقرر کر چکے ہو، تو پھر جو تم نے مقرر کیا ہے اس کا نصف (ادا کرنا ) ہوگا۔سوائے اس کے کہ وہ (عورتیں) معاف کر دیں، یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کا بندھن ہے۔اور تمہارا عفو سے کام لینا تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔اور آپس میں احسان ( کا سلوک) بھول نہ جایا کرو۔یقیناً اللہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔اور اگر تم ایک بیوی کو دوسری بیوی کی جگہ تبدیل کرنے کا ارادہ کرو اور تم اُن میں سے ایک کو ڈھیروں مال بھی دے چکے ہو تو اُس میں سے کچھ واپس نہ لو۔کیا تم اُسے بہتان تراشی کرتے ہوئے اور کھے کھلے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے واپس لو گے۔“ 67