راکھا

by Other Authors

Page 62 of 183

راکھا — Page 62

حق مہر کی ادائیگی فرماتا ہے: شادی کے بعد یہ سب سے پہلا فرض ہے جو اسلام نے مرد پر عائد کیا ہے۔اللہ تعالیٰ وَاتُوا النِّسَاءَ صَدُقَتِهِنَّ نِحْلَةً ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا (النساء آیت (۵) ترجمہ: اور عورتوں کو اُن کے مہر دلی خوشی سے ادا کرو۔پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے اُس میں سے کچھ دے دیں تو یہ جانتے ہوئے کہ وہ تمہارے لئے مزے اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے تم اسے بے شک کھاؤ۔“ مہر وہ رقم ہے جو مرد نکاح کے موقع پر بیوی کو نقدی یا زیور کی صورت میں دینے کا عہد کرتا ہے۔اس پر کلیتا عورت کا حق ہوتا ہے ، وہ اُسے جہاں چاہے اور جیسے چاہے خرچ کرے۔بہتر صورت یہی ہے کہ نکاح کے موقع پر ہی اسے ادا کر دیا جائے لیکن بعد میں بھی اس کی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔مرد کا ہرگز یہ حق نہیں کہ اپنی کسی ضرورت کیلئے مہر کی ادا شدہ رقم کا بیوی سے مطالبہ کرے ، ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اُس میں سے کچھ دے تو مرد اُسے اپنے استعمال میں لاسکتا ہے۔اس میں بھی بہت کچھ افراط و تفریط ہوتی ہے۔بعض لوگ محض دکھاوے کیلئے بڑی بڑی رقوم مہر کے طور پر مقرر کرتے ہیں۔اُن کی نیت دینے کی ہوتی ہی نہیں۔اسی طرح بعض اوقات لڑکی والے بڑی رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں اور ایک طرح سے اُسے لڑکی کے گھر بسانے کی ضمانت خیال کرتے ہیں۔یہ دونوں صورتیں درست نہیں ہیں۔مہر مرد کی حیثیت اور طاقت کے مطابق ہونا چاہئے 62