راکھا — Page 58
تو کوئی معیار چاہتا ہے۔تو یک طرفہ معیار کا جو اونچے معیار کا مطالبہ ہے یہ بہت بڑا گناہ ہے بلکہ ہماری شادی کے رشتوں میں بہت بڑی لعنت ہے، اس کو ختم کرنا چاہئے۔اور ولی خدا نے ماں کو نہیں بنایا، ولی باپ کو بنایا ہے۔اس لئے باپ جہاں شادی کرنا چاہتا ہے اس میں ماں کو چاہئے ہرگز دخل اندازی نہ کرے اور اپنی بیٹیوں کو بھی سمجھائے کہ باپ آخر تمہارا دشمن نہیں ، خدا نے اُس کو ولی مقرر کیا ہے۔جس جگہ بھی وہ چاہتا ہے وہاں شادی کر لو ور نہ گھر بیٹھی بیٹھی بڑھی ہو جاؤ گی اور کوئی تمہیں نہیں پوچھے گا۔“ (الفضل ۲۸ مارچ ۲۰۰۱) سورہ المائدہ کی محولہ بالا آیت میں پاکدامن اہلِ کتاب عورتیں شادی کرنے کیلئے حلال قرار دی گئی ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ارشاد خدا وندی مخصوص حالات میں ایک اجازت کے رنگ میں ہے۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کو غیر مسلم اہلِ کتاب عورتوں سے شادی کی عام اجازت ہے۔بخاری شریف کی جو حدیث اوپر درج کی گئی ہے اُس میں آنحضرت میے مسلمانوں کو ہدایت کر رہے ہیں کہ وہ بیوی کے انتخاب میں دین کے پہلو کو مقدم رکھا کریں۔اس فرمان رسول ﷺ سے انسان آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ دین کا ایک نہایت اہم پہلو ہم عقیدہ ہونا بھی ہے۔مختلف مذاہب اور عقائد کے حامل والدین کی نہ صرف اولا دشعور کی عمر کو پہنچ کر مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے بلکہ اس وجہ سے عموماً اُن میاں بیوی میں بھی اختلافات جنم لے کر گھر کے امن کو تباہ کر دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی شادیوں کے نتیجے میں بے شمار تمدنی، معاشرتی، مذہبی اور تربیتی مسائل اور الجھنوں کے پیش نظر غیر مسلم تو ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفائے احمدیت کے نہایت ہی واضح ارشادت موجود ہیں کہ احمدی مسلمانوں کوصرف احمدیوں میں ہی رشتے کرنے چاہئیں۔شروع میں مخصوص حالات کے پیش 58