راکھا

by Other Authors

Page 57 of 183

راکھا — Page 57

میں مخصوص نہیں ساری مخلوق کو مخاطب کیا ہے۔مومن، مقرب،مخلص، اصحاب الیمین۔غرض کوئی ہو کسی کو الگ نہیں کیا۔یايُّهَا النَّاسُ فرمایا۔النَّاسُ جوانس سے تعلق رکھتا ہے وہ انسان ہے۔انسان جب اُنس سے تعلق رکھتا ہے تو سارے انسوں کا سرچشمہ میاں بیوی کے تعلق کے اندر نکاح کا اُنس ہے۔اس کے ساتھ اگر ایک اجنبی لڑکی پر فرائض کا بوجھ رکھا گیا ہے تو اجنبی لڑکے پر بھی اس کی ذمہ داریوں کا ایک بوجھ رکھا گیا ہے۔اس لئے اس تعلق میں ، ہاں اس نازک تعلق میں جو بہت سی نئی ذمہ داریوں اور فرائض کو پیدا کرتا ہے کامل انس کی ضرورت ہے جس کے بغیر اس بوجھ کا اٹھانا بہت ہی ناگوار اور تلخ ہو جاتا ہے لیکن جب وہ کامل انس ہو تو رحمت اور فضل انسان کے شامل حال ہو سکتے ہیں۔غرض اس تعلق کی ابتدا انس سے ہونی چاہئے تا کہ دو اجنبی وجود متحد فی الارادت ہو جائیں۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۲ صفحه ۲ ) حضرت خلیفۃ امسیح الرابع فرماتے ہیں: بعض لوگ اپنے معیار سے اونچا چاہتے ہیں۔بعض لڑکیاں بڑی ہو رہی ہیں اور معیار سے اونچے رشتہ کی تمنا میں بیٹھی رہتی ہیں۔اپنا معیار بھی تو دیکھیں۔اسی کے مطابق رشتہ بھی قبول کر لیں۔اور بعض جگہ یہ ظلم ہو رہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ولی تو باپ کو بنایا ہے لیکن ماں ، باپ کے اوپر سوار ہوتی ہے اور لڑکیاں بھی اپنی ماں کی طرفداری کر رہی ہوتی ہیں اور ایسی لڑکیاں سوائے اس کے کہ گھر میں بیٹھی بڑھی (بوڑھی) ہو جائیں اور ان کا کیا علاج کیا جائے۔اونچے معیار بنائے ہوئے ہیں۔آخر ا گلے نے بھی تو معیار دیکھنا ہوتا ہے۔جس نے لڑ کی ڈھونڈنی ہے وہ بھی 57