راکھا

by Other Authors

Page 37 of 183

راکھا — Page 37

ترجمہ : ” مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اپنے اموال (ان پر ) خرچ کرتے ہیں۔“ اس آیت کریمہ میں مردوں کیلئے قومونَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔یہ قیام سے مبالغہ جمع مذکر ہے جس کا واحد قوام ہے۔قوام کے معنی ہیں ”خوبصورت قد والا ، معاملے کا ذمہ دار، کفیل، معاملے کی ذمہ داری کو پورا کرنے پر قادر، امیر (المنجد )۔اسی طرح مصباح الغات وو میں اس کے معنی " اچھے قد و قامت والا ، امور کا منتظم ، اچھی نگرانی کرنے والا اور امیر لکھے ہیں۔ان معانی کی رو سے یہ صفات مرد پر ہی صادق آتی ہیں۔قد وقامت کے لحاظ سے مرد عورتوں کی نسبت عموماً دراز قد ہوتے ہیں اور اُن کا جسم بھی مضبوط اور سخت ہوتا ہے۔یہی وہ صفات ہیں جو ایک ذمہ دار رکھوالی کرنے والے کیلئے ضروری ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جو مر دکو گھر کی نگرانی کے فرائض سونپے ہیں اور اُسے قوام قرار دیا ہے تو یہ اُس میں ودیعت کی گئی صلاحتیوں کے عین مطابق ہے۔یہاں ایک اہم نکتہ یا درکھنے کی ضرورت ہے کہ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں جو مر د رکھوالی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں وہ عموماً اُس چیز کے مالک نہیں ہوتے جس کی وہ رکھوالی کر رہے ہوتے ہیں بلکہ وہ ملا زم ہوتے ہیں اور اُس چیز کے مالک سے رکھوالی کی اجرت لیتے ہیں۔اُن کا اُس چیز کے ساتھ کوئی ذاتی یا جذباتی لگاؤ نہیں ہوتا بلکہ اُن کی نظر صرف کام اور اجرت پر ہوتی ہے۔گھر کے راکھے کی مثال ہم ایک زمیندار سے دے سکتے ہیں جو زمین کا مالک بھی ہوتا ہے۔اُسے اپنی کھیتی سے ایک ذاتی تعلق ہوتا ہے۔جس درد اور جانفشانی کے ساتھ وہ کام کرتا ہے ایک نوکر ہر گز نہیں کر سکتا۔زمیندار اپنی کھیتی میں فصل بھی ہوتا ہے اور پھر اُس کی رکھوالی بھی کرتا ہے۔ظاہر ہے ان دونوں رکھوالوں میں بہت بڑا فرق ہے۔37