راکھا

by Other Authors

Page 30 of 183

راکھا — Page 30

آزا د رکھا جانا چاہئے۔اصولی طور پر یہ ذمہ داری مردوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اگر عورتوں کو اپنی گھریلو ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے بعد فراغت ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ انہیں اقتصادی ترقی کے عمل میں حصہ لینے سے روکا جائے۔شرط صرف یہی ہے کہ ان کے اصل فرائض نظر انداز نہ ہوں۔اسلام کی یہی تعلیم ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ عورتیں بالعموم جسمانی ساخت کے لحاظ سے مردوں کی نسبت کمزور ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز طور پر عورتوں کو بعض لحاظ سے بہت مضبوط قومی بھی عطا فرمائے ہیں۔اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ ان کے خلیوں میں نصف کروموسوم زائد ہوتا ہے۔یہی وہ نصف کروموسوم ہے جو کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان پائے جانے والے فرق کا ذمہ دار ہے۔اور یہ انہیں اسی لئے دیا گیا ہے کہ وہ اس عظیم ذمہ داری کو اٹھا سکیں جو حمل ، زچگی اور ایام رضاعت میں انہیں ادا کرنی ہوتی ہے۔اس صلاحیت کے باوجود عورت بظاہر جسمانی لحاظ سے مضبوط اور سخت جان نہیں ہوتی۔پس مساوات کے نام پر یا کسی اور بہانہ سے عورتوں پر معیشت کے وہ کام مسلط نہیں کرنے چاہئیں جن میں مردانہ جفا کشی اور مشقت کی ضرورت ہوتی ہے۔عورت کی نزاکت اس امر کی بھی متقاضی ہے کہ اس کے ساتھ زیادہ نرمی اور رافت کا سلوک روا رکھا جائے۔روز مرہ کی زندگی میں عورتوں کو ہرگز مجبور نہیں کرنا چاہئے کہ وہ مردوں کے برابر بوجھ اٹھائیں بلکہ ان کا بوجھ مردوں کی نسبت ہلکا ہونا چاہئے۔مذکورہ بالا بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر خانہ داری کی مخصوص ذمہ داری عورت یا مرد میں سے کسی ایک کے سپرد کرنے کا سوال ہو تو یقیناً عورت مرد کے مقابلہ میں 30