راکھا — Page 21
دستور دُنیا بھی یہی ہے اور عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ جہاں تک بنیادی انسانی حقوق کا تعلق ہے تو وہ عورت اور مرد کے برابر ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں لیکن ذمہ داریوں کے اعتبار سے ان کے متعدد فرائض بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور حقوق بھی۔چنانچہ اس آیت کا اگلا ٹکڑا بھی اسی طرف اشارہ کر رہا ہے۔فرمایا: وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً ترجمه: ہاں مگر مردوں کو اُن پر ایک طرح کی فوقیت حاصل ہے۔اس آیت کی تفسیر میں آپ فرماتے ہیں: عام قانون بتایا کہ مردوں اور عورتوں کے حقوق بحیثیت انسان ہونے کے برابر ہیں۔جس طرح عورتوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ مردوں کے حقوق کا خیال رکھیں اسی طرح مردوں کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق ادا کریں۔۔۔۔انسانی حقوق کا جہاں تک سوال ہے عورتوں کو بھی ویسا ہی حق حاصل ہے جیسے مردوں کو۔ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔۔۔ہاں آپ نے اس بات کا بھی اعلان فرمایا کہ وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً یعنی حقوق کے لحاظ سے تو مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں لیکن انتظامی لحاظ سے مردوں کو عورتوں پر ایک حق فوقیت حاصل ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک مجسٹریٹ انسان ہونے کے لحاظ سے تو عام انسانوں جیسے حقوق رکھتا ہے اور جس طرح ایک ادنیٰ سے ادنی انسان کو بھی ظلم اور تعدی کی اجازت نہیں اُسی طرح مجسٹریٹ کو بھی نہیں۔مگر پھر بھی وہ بحیثیت مجسٹریٹ اپنے ماتحتوں پر فوقیت رکھتا ہے اور اُسے قانون کے مطابق دوسروں کو سزا دینے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔اسی طرح تمدنی اور مذہبی معاملات 21