راکھا — Page 181
یہ بھی درست ہے کہ فیصلہ کا اختیار مر دکو ہی دیا گیا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اُس نے کسی کی رائے کے بغیر سب فیصلے خود ہی کرنے ہیں۔ایک اچھے نگران کا یہ فرض ہے کہ وہ اہم معاملات میں اپنی جیون ساتھی کے ساتھ مشورہ کرے، اُس کی رائے بھی دریافت کرے اور تب کوئی فیصلہ کرے۔ظاہر ہے جسے فیصلے کا اختیار ہے وہ مشورہ مانے کا پابند نہیں ہوتا لیکن بفرضِ محال اگر اُس نے اپنی سمجھ کے مطابق بیوی کے مشورے کو مفید نہ پا کر اُس کے مطابق عمل نہیں کیا اور نتیجہ درست نہیں نکلا تو یہ صورتِ حال ظاہر ہے بیوی کے حق میں جاتی ہے۔اگر گھر کا نگران کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے فرائض اپنی طاقت سمجھ اور علم کے مطابق خدا اور اُس کے رسول کے احکامات کے مطابق ادا کرے تو اُس کا بھی حق ہے کہ اہلِ خانہ بھی اُس کی قدر کریں۔اُس سے پیار کریں ، اُس کی عزت کریں اور اُس کی اطاعت کریں۔اسلامی تعلیمات میں بیویوں سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا جو اُن کی صنف کے تقاضوں کے خلاف ہو۔اُنہیں صرف وہی فرائض ادا کرنے چاہئیں جو خدا اور اُس کے رسول ﷺ نے انہیں سونپے ہیں۔مشاہدہ گواہ ہے کہ مردوں میں عورتوں کے فرائض سنبھالنے کا رجحان نا قابل بیان حد تک کم ہوتا ہے۔اس کے برعکس عورتوں میں مردوں کے فرائض سنبھالنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے اور یہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں اپنے اپنے فرائض ادا کرنے تک محدود ر ہیں کیونکہ اس میں ہی خیر ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں : سب سے پہلے تو یہی ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کی ذمہ داریاں ادا کریں ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔اپنے گھروں کو محبت و پیار کا گہوارہ بنا ئیں اور اولاد کے حق ادا کریں۔اُن کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دیں۔ایک 181