راکھا

by Other Authors

Page 167 of 183

راکھا — Page 167

آہستہ آہستہ جہاں دیگر کئی اچھی اقدار کو معاشرے سے مٹا ڈالا ہے یہاں کی عورتوں کے سروں سے اوڑھنیاں بھی اتار لی ہیں۔یہ چادریں، یہ اوڑھنیاں تو شرم و حیا کی قوتوں کی تقویت اور عصمت کی حفاظت کیلئے ایک قسم کا حصار تھیں۔جب یہ اتریں تو ظاہر ہے شرم و حیا بھی رخصت ہوئی اور عصمت کی حفاظت کا احساس بھی مٹ گیا۔صرف ایک ظاہری چادر ان عورتوں نے اتاری تھی۔اس کا نتیجہ کتنا بھیا نک نکلا ہے۔خاوند جنہیں خدا نے عورت کیلئے چادر قرار دیا ہے اُن سے بھی یہ عورتیں مستغنی ہو گئیں۔کون خاوند اور کس کا خاوند، کون بیوی اور کس کی بیوی ؟ جس رفتار سے جنسی ہوس پرستی کا عفریت یہاں کی اخلاقی اور مذہبی اقدار کو نگل رہا ہے ڈر ہے کہ ان اقوام سے خاوند بیوی کا بندھن ہی کلیۂ ختم نہ ہو جائے۔میاں بیوی کے رشتوں اور عائلی زندگی کی جو بد ترین صورتِ حال آج اس معاشرے کی ہو چکی ہے محتاج بیان نہیں۔یہ یورپ کا بہت بڑا المیہ ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت کو اپنی حفاظت کیلئے ایک چادر کی جیسے پہلے ضرورت تھی آج بھی اُسی طرح ہے بلکہ اُس سے کہیں بڑھ کر۔اس سے مستغنی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خود اپنے ہاتھوں اپنی حفاظت کا انتظام ختم کر دیا جائے۔یہ درست ہے کہ جس طرح خاوند اپنی بیوی کیلئے ایک چادر ہے اُسی طرح بیوی بھی اپنے خاوند کیلئے یقیناً ایک چادر ہے اور دونوں ایکدوسرے کی حفاظت کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک نے دونوں کو ایک دوسرے کیلئے لباس قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا: هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ (البقرہ آیت ۱۸۸) لیکن اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ عصمت اور عائلی زندگی کی حفاظت کے حوالے سے جس طرح ظاہری چادر کا تعلق مرد کی نسبت عورت سے زیادہ ہے اسی طرح معنوی لحاظ سے بھی اس کا تعلق عورت سے ہی زیادہ بنتا ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پردے کی غرض سے اپنی زمینوں کو چھپانے 167