راکھا — Page 160
ہوں ، اتنے گھنٹے فلاں کام کرتا ہوں ، اتنے گھنٹے فلاں جگہ کام کرتا ہوں تو گھر کیلئے دو چار گھنٹے صرف بچتے تھے تو اس نے بڑے تعجب سے کہا کہ تمہیں آرام کا کوئی وقت نہیں ملتا ؟ اس نے کہا یہی تو آرام کا وقت ہے جو گھر سے باہر میں خرچ کرتا ہوں وقت۔یہی تو میرے آرام کا وقت ہے۔گھر تو ایک عذاب ہے۔تو ایسے لوگ بھی ہیں بے چارے جن کی بیویاں ظالم ہوتی ہیں اور ان کیلئے گھر جانا ایک مصیبت بن جاتا ہے۔ہمارے اپنے تجربے میں بھی ایسے بہت سے احباب ہیں جن کا یہی حال ہے بیچاروں کا۔لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس میں عورت خوش کبھی نہیں رہتی۔اس لئے یہ نصیحت میں خاوندوں کو کرنے کی بجائے عورتوں کو کر رہا ہوں۔خاوند بیچارے تو بے اختیار ہیں۔اب ان کے ہاتھ سے معاملہ آگے نکل گیا ہے ، کچھ بھی نہیں کر سکتے سوائے یتیمی کے رونے کے ان کے پلے کچھ نہیں رہا باقی۔لیکن عورتوں کو خود اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔میں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے ایسی عورتیں کبھی خوش نہیں رہتیں۔نہ ان کی اولادیں خوش رہ سکتی ہیں نہ اُن کی اولادوں کی تربیت ہو سکتی ہے کیونکہ خدا نے مرد کو قوام بنایا ہے۔جس عورت کا مرد قوام نہ ہو وہ اس طرح اندرونی غصے نکالتی ہیں۔تو عورتوں کو چاہئے کہ ہوش کریں اور ایسے لوگوں کی عزت کریں ، ان کے ساتھ عزت سے پیش آئیں ، اپنے گھر کو ان کیلئے جنت بنا ئیں۔اگر وہ اپنے گھر کو خاوندوں کیلئے جنت بنائیں گی تو اُن کے پاؤں تلے اُن کے بچے بھی جنت حاصل کریں گے۔اگر خاوندوں کیلئے وہ اپنے گھروں کو جنت نہیں بنائیں گی تو 160