راکھا — Page 156
اس کی پرورش کرتا ہے مگر والدین تو اپنے بچہ سے کچھ نہیں لیتے۔وہ تو اس کے پیدا ہونے سے لے کر اس کی جوانی تک اس کی خبر گیری کرتے ہیں اور بلا کسی اجر کے اس کی خدمت کرتے ہیں اور جب وہ جوان ہوتا ہے تو اس کا بیاہ کرتے اور اس کی آئندہ بہبودی کے لئے تجاویز سوچتے اور اس پر عمل کرتے ہیں اور پھر جب وہ کسی کام پر لگتا ہے اور اپنا بو جھ آپ اٹھانے اور آئندہ زمانہ کے لئے کسی کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو کس خیال سے اس کی بیوی اس کو اپنے ماں باپ سے جدا کرنا چاہتی ہے یا کسی ذرا سے بات پر سب وشتم پر اتر آتی ہے اور یہ ایک ایسا نا پسند فعل ہے جس کو خدا تعالیٰ اور مخلوق دونوں نا پسند کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان پر دوذمہ داریاں مقرر کی ہیں۔ایک حقوق اللہ اور ایک حقوق العباد۔پھر اس کے دو حصے کئے ہیں۔یعنی اول تو ماں باپ کی اطاعت اور فرماں برداری اور پھر دوسری مخلوق الہی کی بہبودی کا خیال۔اور اسی طرح ایک عورت پر اپنے ماں باپ اور خاوند اور ساس سسر کی خدمت اور اطاعت۔پس کیا بدقسمت ہے وہ جو ان لوگوں کی خدمت نہ کر کے حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں کی بجا آوری سے منہ موڑتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۹ صفحہ ۲۳۱۔۲۳۲) تعد دازدواج تعد دازدواج پر راکھے کے فرائض میں اُن سے متعلقہ امور کے بارے میں تفصیل۔روشنی ڈالی جا چکی ہے۔یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنی مخلوق کی تمام ضرورتوں اور حالات کا مکمل علم رکھنے والا ہے مرد کو شرعی ضرورت کے تحت بشرط عدل ایک سے زیادہ 156