راکھا

by Other Authors

Page 154 of 183

راکھا — Page 154

بہت سا حصہ ان کی عزت کا تمہارے ہاتھ میں ہے۔سو تم اپنی اس ذمہ داری کو ایسی عمدگی سے ادا کرو کہ خدا کے نزدیک صالحات قانتات میں گئی جاؤ۔اسراف نہ کرو اور خاوندوں کے مالوں کو بے جا طور پر خرچ نہ کرو، خیانت نہ کرو، گلہ نہ کرو، ایک عورت دوسری عورت یا مرد پر بہتان نہ لگائے۔“ ( روحانی خزائن جلد ۹ اصفحہ ۸۱ ) عورتوں کیلئے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ اپنے خاوندوں کی اطاعت کریں گی تو خدا اُن کو ہر ایک بلا سے بچاوے گا اور اُن کی اولا د عمر والی ہوگی اور نیک بخت ہوگی۔(تفسیر حضرت مسیح موعود سورۃ النساء جلد ۲ صفحہ ۲۳۷) خاوند کے والد سن سے حسن سلوک عائلی مسائل کی متعدد وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بعض عورتیں اپنے خاوند کے والدین اور اُس کے دوسرے قریبی رشتہ داروں سے نیک سلوک نہیں کرتیں۔اسلامی ضابطہ حیات میں گھر کے اخراجات پورا کرنے کی ذمہ داری مرد کی ہے۔مرد کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اگر اُس کے والدین ضرورتمند ہوں تو اُن کا بھی خیال رکھے۔یہ ایسی بات ہے جو عام طور پر عورتیں برداشت نہیں کرتیں اور بہت سی تلخیاں محض اسی وجہ سے جنم لے کر گھر کے سکون کو برباد کر دیتی ہیں۔اسی طرح خاوند کے رشتہ داروں کی گھر میں آمد پر ناک منہ چڑہاتی اور بات بات پر اپنی بیزاری کا اظہار کرتی ہیں۔ہمارے ایک بزرگ کہا کرتے ہیں کہ جب ان کا کوئی اپنا آجائے (جو اکثر آتے رہتے ہیں ) تو بس کچھی جاتی ہیں لیکن ہمارا کوئی رشتہ دار اگر کبھی کبھار آ جائے تو سر باندھ لیتی اور بیمار پڑ جاتی ہیں۔خاوند اگر اپنے والدین یا بھائی بہن سے کوئی نیک سلوک کر بیٹھے تو بعض عورتیں ایسا پھڑ ڈالتی ہیں جس کی تلخیاں مہینوں بلکہ سالوں دور نہیں ہوتیں۔154