راکھا

by Other Authors

Page 153 of 183

راکھا — Page 153

منظور نہیں اور نیز فرمایا کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بدزبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکم ربانی سن کر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔عورتوں کو چاہئے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چراویں اور نامحرم سے اپنے تئیں بچائیں۔اور یاد رکھنا چاہئے کہ بجز خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں اس سے پردہ کرنا ضروری ہے۔جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔عورتوں پر یہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بد وضع عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں اور نہ اُن کو اپنی خدمت میں رکھیں کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بدکار عورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔“ ( ملفوظات جلد ۹ صفحه ۴۴-۴۵) عورت پر اپنے خاوند کی فرمانبرداری فرض ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر عورت کو اس کا خاوند کہے کہ یہ ڈھیر اینٹوں کا اٹھا کر وہاں رکھ دے اور جب وہ عورت اس بڑے اینٹوں کے انبار کو دوسرے جگہ پر رکھ دے تو پھر اس کا خاوند اس کو کہے کہ پھر اس کو اصل جگہ پر رکھ دے تو اس عورت کو چاہئے کہ چون و چرا نہ وو کرے بلکہ اپنے خاوند کی فرمابرداری کرے۔( ملفوظات جلد ۸ صفحه ۴۴۱ ) خاوندوں سے وہ تقاضے نہ کرو جو ان کی حیثیت سے باہر ہیں۔کوشش کرو کہ تاتم معصوم اور پاکدامن ہونے کی حالت میں قبروں میں داخل ہو۔خدا کے فرائض نماز زکوۃ وغیرہ میں سستی مت کرو۔اپنے خاوندوں کی دل و جان سے مطیع رہو۔153