راکھا — Page 150
والے گناہ بخش دیتا ہے مگر بندوں کے حقوق سے تعلق رکھنے والے گناہ اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک کہ خود بندے معاف نہ کریں۔انہی دو حکمتوں کی بناء پر آنحضرت ﷺ خدا کی قسم کھا کر بڑے زور دار الفاظ میں فرماتے ہیں کہ کوئی عورت اس وقت تک خدا کے حقوق ادا کرنے والی نہیں سمجھی جاسکتی جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے حقوق ادا نہ کرے اور پھر ان الفاظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس عورت پر خدا راضی نہیں جو اپنے خاوند کے حقوق ادا نہیں کرتی۔( چالیس جواہر پارے صفحہ ۸۲ - ۳۸) بہترین سامان زیست گھر چاہے اپنا ہو یا ماں باپ کا ، سسرال کا ہو یا کسی اور کا مکمل گھر وہی ہوتا ہے جس میں عورت موجود ہو۔عورت کے بغیر گھر کا کوئی تصور نہیں۔عورت ہی گھر کی رونق ، خوبصورتی اور روح رواں ہوتی ہے۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ ”میرا گھر میری جنت“ تو یہ ایسے ہی گھر کے بارے میں ہے جس میں ایک صالحہ اور قانتہ بیوی موجود ہو۔عورت کے بغیر گھر سے کسی کو حقیقی آرام اور سکون ہرگز نہیں مل سکتا۔نیک بی بی انسان کیلئے اس جہان میں ایک بہت بڑی نعمت ہے۔جسے یہ نعمت ملی ہوئی ہو وہ بہت ہی خوش نصیب انسان ہے۔اس حوالے سے آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث پیش کی جاتی ہے: حضرت عبداللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا تو سامانِ زیست ہے اور نیک عورت سے بڑھ کر کوئی سامانِ زیست نہیں۔( ابن ماجہ ) اللہ کے رسول نے عورت کو بہترین سامانِ زیست قرار دیا ہے۔پس عورتوں کا فرض ہے 150