راکھا — Page 143
جاسکتی ہے۔اس فطری ضرورت کے عین مطابق اسلامی ضابطہ حیات میں بنیادی طور پر عورت کا دائرہ کا راُس کا گھر ہوتا ہے اور امور خانہ داری، بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت اُس کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔اگر چہ اس مقولے کے ہر پہلو سے درست ہونے میں کلام ہے لیکن اس امر میں کیا شک ہے کہ ایک کامیاب مرد کو اُس کی ذمہ داریاں احسن رنگ میں ادا کرنے کیلئے ایک مونس و غم خوار اور ہمدرد جیون ساتھی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔آنحضرت ﷺ پر جب پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ گھبراہٹ کے عالم میں گھر آئے تو آپ کی اہلیہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ ہی تھیں جنہوں نے نہ صرف یہ کہ آپ سے ہمدردی کا اظہار کیا اور تسلی دی بلکہ سب سے پہلے آپ پر ایمان لائیں۔یہ آپ کی شریک حیات ہی تھیں جنہوں نے اپنا تمام مال و دولت آپ کے قدموں میں لا ڈالا اور جانثاری اور فدائیت کی عدیم النظیر مثال قائم فرمائی۔آپ ﷺ اور آپ کے ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے لیکن اس وفا شعار بیوی نے ہر حال میں آپ کا ساتھ دیا اور آپ کے کاموں میں آپ کی معین و مددگار رہیں۔جس سال آپ کی وفات ہوئی اسلامی تاریخ میں اُسے عام الحزن یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے۔کتنے نصیبوں والی تھی یہ بزرگ ہستی کہ خدا کے رسول ﷺ نے ساری عمر جس کی وفا شعاری اور خدمات کے گیت گائے اور اُس کی یادوں کے چراغ جلائے رکھے۔حدیث میں آتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد ایک دفعہ آپ کی بہن ہالہ آنحضرت ﷺ کے گھر آئیں اور باہر سے آواز دی۔اُن کی آواز حضرت خدیجہ سے بہت ملتی تھی۔آپ ملے آواز سن کر بے قرار ہو گئے اور میری خدیجہ ! میری خدیجہ ! پکار اٹھے حالانکہ آپ ﷺ کی یہ ! پیاری بیوی تو فوت ہو چکی تھیں۔کہنے کو تو یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے لیکن اصل میں یہ ایک 143