راکھا

by Other Authors

Page 138 of 183

راکھا — Page 138

وو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: باوجود اس کے کہ مکان کسی اور وارث کے حصہ میں آیا ہو بیویوں کو ایک سال تک اس میں رہنے کا حق حاصل ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ عورت خود بھی مکان سے نہیں جاسکتی۔عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے اور اپنے فائدہ کیلئے جانا چاہے تو جاسکتی ہے۔سال بھر کی شرط صرف عورت کے آرام اور فائدہ کیلئے لگائی گئی اور اس میں وارثوں کو پابند کیا گیا ہے۔عورت پر پابندی صرف ایا م عدت تک گھر میں رہنے کی ہے۔بعد میں اس حکم سے فائدہ اٹھا نا یا نہ اٹھا نا اس کے اختیار میں ہے۔یہ امر کہ اس ایک سال میں عدت شامل ہے یا نہیں۔اس بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔لیکن میرے نزدیک جس بات میں عورت کا فائدہ ہو اُسے تسلیم کرنا چاہئے اور وہ صورت یہی ہے کہ عدت کے بغیر ایک سال تک عورت کو گھر میں رہنے دیا جائے۔‘ (تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۵۳۹) گھر کے نگران کے فرائض قرآن کریم ، سنتِ رسول ﷺ ، احادیث مبارکہ، ارشادات و سیرت حضرت مسیح موعود اور اقوال خلفائے احمدیت کی روشنی میں پیش کئے گئے۔بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے بارے میں ان کے کلمات طیبات اور پاکیزہ عمل جب عوام الناس دیکھتے ہیں تو انہیں یہ چوٹی بہت اونچی لگتی ہے جسے سر کرنا ناممکن معلوم ہوتا ہے۔وہ سوچتے ہیں کہ کہاں سے خدا کے پاک نبیوں جیسے حوصلے اور برداشتیں لائیں کہ ہر حال میں عَاشِرُوهُنَّ بالْمَعْرُوفِ حکم الہی کا حق ادا کر سکیں۔لیکن یا درکھنا چاہئے یہ ایک وسوسہ ہے جو کمزور دلوں میں 138