راکھا

by Other Authors

Page 123 of 183

راکھا — Page 123

اپنی دنیا میں مست رہ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو مومن کو، ایک احمدی کو ان باتوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہونا چاہئے۔مومن کے لئے تو یہ حکم ہے کہ دنیا داری کی باتیں تو الگ رہیں، دین کی خاطر بھی اگر تمہاری مصروفیات ایسی ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے تم نے مستقلا اپنا یہ معمول بنالیا ہے، یہ روٹین بنالی ہے کہ اپنے گرد و پیش کی خبر ہی نہیں رکھتے ، اپنے بیوی بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتے ، اپنے ملنے والوں کے حقوق ادا نہیں کرتے ، اپنے معاشرے کی ذمہ داریاں نہیں نبھاتے تو یہ بھی غلط ہے۔اس طرح تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم نہیں ہوتے۔بلکہ یہ معیار حاصل کرنے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کر و اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرو۔۔۔۔تو اس زمانے میں اور خاص طور پر اس ماحول میں باپوں کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔صرف اپنی باہر کی ذمہ داریاں نہ نبھائیں ، گھروں کی بھی ذمہ داری ہے۔اور اس کو سمجھیں کیونکہ ہر طرف سے معاشرہ اور بگاڑنے والا ما حول منہ کھولے کھڑا ہے۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ ۲ جولائی ۲۰۰۴ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل ۱۶ تا ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ء) یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ اولاد پر باپ کا حق فائق ہوتا ہے۔بچے ہمیشہ باپ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، باپ کے گھرانے کے بچے کہلاتے ہیں اور شجرہ نسب بھی باپ کے حوالے سے ہی چلتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب باپ فوت ہو جائے تو بچوں کی رضاعت ، پرورش اور تعلیم و تربیت کے اخراجات کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ نے باپ ہی کے ورثاء کوٹھہرایا ہے، جیسا کہ فرمایا: وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ ( البقر ۲۳۴۰)۔حضرت خلیفتہ مسیح الاوّل فرماتے ہیں : انسان کو چاہئے کہ اپنے ماں باپ ، یہ بھی میں نے ملک کی زبان کے مطابق کہہ 123