راکھا

by Other Authors

Page 120 of 183

راکھا — Page 120

سے اپنے اصل مقام سے ہٹ کر بے اثر اور بے اختیار ہو چکے ہوتے ہیں ، وہ بچے اکثر بگڑ جاتے ہیں اور معاشرے کا مفید وجود نہیں بن پاتے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ ایک عمر کے بعد ماں اپنے بچوں پر کنٹرول کر ہی نہیں سکتی۔وہ اُس سے ضد کر کے ہر جائز نا جائز بات منوا لیتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔یہ ممکن ہی نہیں کہ گھر کا نگران اور سربراہ تو مر د ہو، اہلِ خانہ کی تمام ضروریات زندگی مہیا کرنے کا بھی ذمہ دار ہو اور گھر کے تمام معاملات میں آخری فیصلے کا اختیار بھی اُسے حاصل ہو لیکن تربیت اولاد کی ذمہ داری سے وہ بری الذمہ قرار پائے۔بچے اور بیوی تو مرد کے زیر کفالت ہونے کی وجہ سے ایک ہی ذیل میں آتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف بچوں کے کردار کی تعمیر کی اصل ذمہ داری گھر کا نگران ہونے کی وجہ سے مرد کی ہے بلکہ خود بیوی کی تربیت اور اُسے سیدھی راہ پر قائم رکھنا بھی اُس کے فرائض میں داخل ہے۔علم النفس کا یہ ایک مانا ہوا مسئلہ ہے کہ بچوں اور عورتوں میں قوت متاثرہ زیادہ ہوتی ہے۔مر دگھر کا سر براہ ہے اور اُسی نے اپنے کردار کا بچوں پر بھی اثر ڈالنا ہے اور بیوی پر بھی۔اس موضوع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے تفصیلی حوالہ جات قبل ازیں پیش کئے جاچکے ہیں۔مرد کا قدرتی طور پر گھر میں ایک رعب ہوتا ہے اور یہی رعب ہے جو انتظامی امور میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔لڑکیاں ہوں یا لڑ کے باپ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اُسی کی ناراضگی سے زیادہ ڈرتے ہیں۔یہ درست ہے کہ لڑکیوں کو کھانا پکانا اور دیگر امور خانہ داری وغیرہ سکھانا بنیادی طور پر ماں کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن مجموعی طور پر تمام بچوں کے اخلاق و کردار کی نگرانی اور انہیں سنوارنے کی بنیادی ذمہ داری بہر حال باپ کی ہی ہے۔بعض لوگ اپنے کاروبار، ملازمتوں یا پھر دینی خدمات کی انجام دہی میں مصروفیات 120