راکھا

by Other Authors

Page 72 of 183

راکھا — Page 72

” مرد اپنے گھر کا امام ہوتا ہے“۔( ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۰۸) اسے یہ مقام خود خدا نے عطا فرمایا ہے۔اس لئے لازم ہے کہ وہ اپنے اس مقام کا ہمیشہ لحاظ رکھے اور اسے کبھی نہ چھوڑے۔وہ ذمہ داریاں جو بطور ایک نگران اُس کے سپرد ہیں انہیں خود بجالائے۔مرد گھر کا رکھوالا ہے، کشتی بان ہے، باغبان ہے۔یہ ایک راز کی بات ہے اور اسے پلے باندھ لینا چاہئے کہ مرد کو اپنے یہ فرائض ادا کرتے رہنا چاہئے اور کسی صورت میں ان کی ادائیگی سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔وہ پورے کنبے کی ہر طرح کی کفالت اور انتظامات کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔اس لئے جسے خدا نے ایک فرض سونپا ہے وہی ادا کرے گا تو اُس کے تقاضے پورے ہوسکیں گے۔اگر وہ اپنے فرائض ہی ادا نہیں کرتا تو وہ نگران نہیں کہلا سکتا۔جن گھرانوں میں مردا اپنی ذمہ داریاں عورتوں کو سونپ دیتے ہیں یا عورتیں خود خاوندوں کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہیں وہاں سے امن وسکون رخصت ہو جاتا ہے اور اس بدامنی کا پہلا شکار اُس گھر میں پلنے والے بچے بنتے ہیں۔یہ پکی بات ہے اور اس میں ہرگز عورتوں کی کوئی بہتک نہیں کیونکہ اُن میں وہ قومی اور صلاحیتیں ہی موجود نہیں ہوتیں جو ایک نگران میں ہونی چاہئیں۔اس لئے انہیں ہرگز یہ ذمہ داری نہیں سو نپینی چاہئے۔عورتیں گھروں کی نگرانی کی اہل ہوتیں تو اللہ تعالیٰ انہیں قوام مقرر فرما تا۔اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے کہ ایک مرد کو اگر ہم امور خانہ داری اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داری سونپ دیں تو وہ کبھی اس سے کما حقہ عہدہ برآنہیں ہو سکے گا کیونکہ ان امور کی انجام دہی کیلئے اُس میں وہ صلاحیتیں ہی موجود نہیں ہوتیں۔اسی طرح اگر ایک درزی کو ہم لوگوں کے اپریشن کرنے کی ذمہ داری سونپ دیں تو اس کا نتیجہ ظاہر ہے۔قانونِ قدرت کے مطابق چل کر ہی امن کی امید کی جا سکتی ورنہ فساد ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے گھر کا نگران مرد کو مقررفرمایا ہے۔وہی گھر کے تمام معاملات کا ذمہ دار ہے اس لئے اُسے یہ ذمہ داری خود ادا کرنی چاہئے۔72