راکھا

by Other Authors

Page 129 of 183

راکھا — Page 129

تو ایک مومن رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث پڑھ کر پاسن کر کہ ان ابــــــــــ الْحَلَا عِندَ اللهِ الطَّلاق کس طرح آسانی سے جرات کر سکتا ہے کہ اس کی خلاف ورزی کرے۔جب شریعت کہتی ہے کہ تم اس اَبغَضُ الْحَلَال کو اختیار کرنے سے پر ہیز کرو تو ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ ایسے امور میں کمی پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اس بات کو میاں بیوی کے تعلقات کی کشیدگی کے وقت بھول نہ جائے۔قرآن کریم کا حکم ہے کہ جب میاں بیوی میں کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو اس کو دُور کرنے کیلئے حکم مقرر کئے جائیں جو کوشش کریں کہ اُن کی رنجش دُور ہو جائے اور وہ پہلے کی طرح پیار اور محبت کی زندگی بسر کرنے لگیں۔لیکن اگر ایسے ہی حالات پیدا ہو جائیں کہ صلح کی کوئی صورت نہ ہو سکے تو پھر خلع کی صورت میں قاضی کے سپرد یہ معاملہ کیا جائے اور وہ اس کا فیصلہ کرے۔بہر حال یہ امرا چھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ ذرا ذراسی بات پر خلع اور طلاق تک نوبت پہنچا دینا نہایت افسوس ناک امر ہے اور یہ اتنا بھیانک اور نا پسندیدہ طریق ہے کہ ہر شریف آدمی کو اس سے نفرت ہونی چاہئے۔( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۵۱۹-۵۲۱) تَسْرِيحَ بِاحْسَانِ اگر کوئی صورت صلح کی نہ رہے اور طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی ہی واحد راستہ ہو تو گھر کے نگران کو دوسری بات یہ یاد رکھنی ہے کہ اُس نے یہاں بھی حسنِ سلوک اور احسان سے کام لینا ہے۔بیوی کے ساتھ زندگی کا ایک حصہ اکٹھے گزارہ ہوا ہوتا ہے اس لئے اُسے اس طریق سے الگ کرنا چاہیے جیسے انسان بامر مجبوری اپنے کسی عزیز سے بچھڑتا ہے۔اُسے دی ہوئی کوئی چیز بھی واپس نہیں لینی بلکہ اپنے پاس سے کچھ دے کے بطریق احسن اُسے رخصت کرنے کا حکم 129