راکھا — Page 113
کسی شخص کے دوسری بیوی کو معمولی سے عذر پر طلاق دینے کے اظہار کے بارے میں ملفوظات میں یہ واقعہ اس طرح درج ہے: ایسا ہی ایک واقعہ اب چند دنوں سے پیش ہے کہ ایک صاحب نے اوّل بڑی چاہ سے ایک شریف لڑکی کے ساتھ نکاح ثانی کیا مگر بعد ازاں بہت خفیف عذر پر دس ماہ کے اندر ہی چاہا کہ اس سے قطع تعلق کر لیا جائے۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام کو بہت سخت ملال ہوا اور فرمایا کہ: ” مجھے اسقدر غصہ ہے کہ میں برداشت نہیں کر سکتا اور ہماری جماعت میں ہو کر پھر یہ ظالمانہ طریق اختیار کرنا سخت عیب کی بات ہے۔چنانچہ دوسرے دن پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ: وو وہ صاحب اپنی نئی یعنی دوسری بیوی کو علیحدہ مکان میں رکھیں، جو کچھ زوجہ اول کو دیویں وہی اسے دیو ہیں۔ایک شب اُدھر رہیں تو ایک شب ادھر رہیں اور دوسری عورت کوئی لونڈی غلام نہیں ہے بلکہ بیوی ہے اُسے زوجہ اول کا دست نگر کر کے نہ رکھا جاوے۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۰) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کوئی بیوی اپنی کسی مخصوص خوبی کی وجہ سے خاوند کو زیادہ اچھی لگتی ہے تو چونکہ اس پر کسی کا اختیار نہیں اس لئے یہ بات عدل کے خلاف نہیں۔لیکن خاوند کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں کہ وہ محبوب بیوی کی طرف اس حد تک جھک جائے کہ دوسری کی طرف کوئی التفات ہی نہ رہے اور اُسے معلقہ چھوڑ دے بلکہ اُسے چاہئے کہ دوسری شادی کی صورت میں پہلی بیوی کی دلجوئی کی خاطر اُس کا کچھ زیادہ خیال رکھے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں انسان کی اس دلی کیفیت کے بارے میں فرماتا ہے: وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا اَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمُ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ (النساء ۱۳۰) 113