راکھا — Page 109
انسانی فطرت کا خاصا ہے کہ وہ سہولتوں اور آسانیوں کی طرف جلد مائل ہو جاتا ہے اور نفس کی خواہش سے مغلوب ہو کر اجازتوں کی آڑ میں مختلف راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس لئے بعض لوگ اس اجازت کے بہانے بیوی سے بدلے لینے کی خاطر دوسری شادی رچا لیتے ہیں اور اُس کے حقوق کی ادائیگی سے اپنے آپ کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دوسری شادی کیلئے معروف اور جائز طریق چھوڑ کر غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔اسلام اس قسم کے ظلم کی ہرگز اجازت نہیں دیتا بلکہ تقویٰ کی بنیاد پر شرعی ضرورت کے تحت ، جائز طریق سے اور عدل و انصاف کی شرط کے ساتھ ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دیتا ہے۔ہر انسان کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے اور نہ ہی ہر حکم ہر ایک کیلئے ایک ہی طریق پر لاگو ہوتا ہے۔اس لئے خدا کے فرستادے موقع محل اور لوگوں کی مخصوص صورتِ حال کے مطابق تعلیم دیتے ہیں۔اس موضوع پر مختلف مواقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ فرمایا اُس میں سے چند ارشادات پیش کئے جاتے ہیں : ” میرا تو یہی جی چاہتا ہے کہ میری جماعت کے لوگ کثرت ازدواج کریں اور کثرت اولاد سے جماعت کو بڑھاویں مگر شرط یہ ہے کہ پہلی بیویوں کے ساتھ دوسری بیوی کی نسبت زیادہ اچھا سلوک کریں تا کہ اسے تکلیف نہ ہو۔دوسری بیوی پہلی بیوی کو اسی لئے ناگوار معلوم ہوتی ہے کہ وہ خیال کرتی ہے کہ میری غورو پرداخت اور حقوق میں کمی کی جاو گی۔مگر میری جماعت کو اس طرح نہ کرنا چاہئے۔اگر چہ عورتیں اس بات سے ناراض ہوتی ہیں مگر میں تو یہی تعلیم دوں گا۔ہاں یہ شرط ساتھ رہے گی کہ پہلی بیوی کی غور و پرداخت اور اس کے حقوق دوسری کی نسبت زیادہ توجہ اور غور سے ادا ہوں اور دوسری سے اسے زیادہ خوش رکھا 109