راکھا — Page 108
پس اصل چیز یہ ہے کہ ایکدوسرے کا خیال رکھنا ہے اور ظلم ختم کرنا ہے۔اس کے خلاف جہاد کرنا ہے وہ جس طرف سے بھی ہو رہا ہو۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۰نومبر ۲۰۰۶ بیت الفتوح لندن ) تعد دازدواج اور عدل اس بات میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے مخصوص حالات میں مسلموں ایک مرد بیک وقت چار تک عورتوں سے شادی کر سکتا ہے۔اس اجازت کی حکمت اور غیر مسل کے اعتراضات کے جوابات ہمارا موضوع نہیں بلکہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں ایک مرد نے اپنے فرائض کیسے ادا کرنے ہیں۔بنیادی اصول تو اللہ تعالیٰ نے اُسی آیت میں بیان فردیا ہے جس میں یہ اجازت دی گئی ہے۔فرمایا: فَإِنْ خِفْتُمُ إِلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (النساء) ترجمہ: لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر صرف ایک ( کافی ہے ) ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کی اجازت مخصوص حالات کی ضرورت کے تحت ہے جس کی حتمی شرط عدل ہے ورنہ ضرورت ہونے کے باوجود ہرگز اجازت نہیں۔انصاف سے مراد اُن کی ہر قسم کی ضروریات زندگی کا ایک جیسے معیار سے پورا کرنا ہے۔نکاح ثانی کرنے والوں میں سے اکثر پہلی بیوی سے اچھا سلوک روا نہیں رکھتے جبکہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا دل جلد ہی دوسری سے بھر جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ اس سے تو پہلی ہی اچھی تھی اور پھر اُسے چھوڑنا چاہتے ہیں۔پھر کئی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ محض شہوات نفسانی کی اتباع میں زیادہ بیویاں کرنا چاہتے ہیں۔108