راکھا — Page 107
لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہم ماں باپ سے علیحدہ ہو گئے تو پتہ نہیں کتنے بڑے گناہ کے مرتکب ہو جائیں گے اور بعض ماں باپ بھی اپنے بچوں کو اس طرح خوف دلاتے رہتے ہیں بلکہ بلیک میل کر رہے ہوتے ہیں کہ جیسے گھر علیحدہ کرتے ہی اُن پر جہنم واجب ہو جائے گی۔تو یہ انتہائی غلط رویہ ہے۔میں نے کئی دفعہ بعض بچیوں سے پوچھا ہے۔ساس سسر کے سامنے تو یہی کہتی ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے رہ رہے ہیں بلکہ اُن کے بچے بھی یہی کہتے ہیں لیکن علیحدگی میں پوچھو تو دونوں کا یہی جواب ہوتا ہے کہ مجبوریوں کی وجہ سے رہ رہے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بہو ساس پر ظلم کر رہی ہوتی ہے اور بعض دفعہ ساس بہو پر ظلم کر رہی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود تو محبتیں پھیلانے آئے تھے۔پس احمدی ہو کر ان محبتوں کو فروغ دیں اور اس کیلئے کوشش کریں نہ کہ نفرتیں پھیلائیں۔اکثر گھروں والے تو بڑی محبت سے رہتے ہیں لیکن جو نہیں رہ سکتے وہ جذباتی فیصلے نہ کریں بلکہ اگر توفیق ہے اورسہولتیں بھی ہیں ، کوئی مجبوری نہیں ہے تو پھر بہتر یہی ہے کہ علیحدہ رہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کا یہ بہت عمدہ نکتہ ہے کہ اگر ساتھ رہنا اتناہی ضروری ہے تو پھر قرآن کریم میں ماں باپ کے گھر کا علیحدہ ذکر کیوں ہے۔اُن کی خدمت کرنے کا ، اُن کی ضروریات کا خیال رکھنے کا، اُن کی کسی بات کو برا نہ منانے کا، اُن کے سامنے اُف تک نہ کہنے کا حکم ہے۔اس کی پابندی کرنی ضروری ہے۔بیوی کو خاوند کے رحمی رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہئے اس کی پابندی بھی ضروری ہے اور خاوند کو بیوی کے رحمی رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہئے اس کی پابندی بھی ضروری ہے۔یہ بھی نکاح کے وقت ہی بنیادی حکم ہے۔107