عید الاضحیہ

by Other Authors

Page 6 of 15

عید الاضحیہ — Page 6

4 3 میں اُن کاموں میں شمار کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے ان ذبح ہونے والے جانورں کا نام قربانی رکھا گیا۔حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے قرب اور ملاقات کا موجب ہیں اس شخص کے لئے کہ جو قربانی کو اخلاص اور خدا پرستی اور ایمان داری سے ادا کرتا ہے اور یہ قربانیاں شریعت کی بزرگ تر عبادتوں میں سے ہیں اور اسی لئے قربانی کا نام عربی میں نَسِيكَة ہے اور نسک کا لفظ عربی زبان میں فرمانبرداری اور بندگی کے معنوں میں آتا ہے اور ایسا ہی یہ لفظ یعنی نُسُک اُن جانوروں کے ذبح کرنے پر بھی زبان مذکور میں استعمال پاتا ہے جن کا ذبح کرنا مشروع (یعنی شریعت کے مطابق) ہے۔“ ہیں: خطبہ الہامیه از روحانی خزائن جلد 16 صفحه 31 تا 33) سید ناظيفة مسح الاول نَوَّرَ اللَّهُ مَرْقَدَہ قربانی کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے قربانی جو عید اضحی کے دن کی جاتی ہے اس میں بھی ایک پاک تعلیم ہے اگر اس میں مد نظر وہی امر ر ہے جو جناب الہی نے قرآن شریف میں فرمایا : لَنْ يَّنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمُ ( سورة الحج : 38) قربانی کیا ہے ایک تصویری زبان میں تعلیم ہے جسے جاہل اور عالم پڑھ سکتے ہیں۔خدا کسی کے خون اور گوشت کا بھوکا نہیں۔وہ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ (الانعام: 15) ہے۔ایسا پاک ور عظیم الشان بادشاہ نہ تو کھانوں کا محتاج ہے، نہ گوشت کے چڑھاوے اور لہو کا بلکہ وہ تمہیں سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی خدا کے حضور اسی طرح قربان ہو جاؤ جیسے ادنی اعلیٰ کے اور لئے قربان ہوتا ہے۔“ پھر فرماتے ہیں: ( خطبات نور صفحہ 431) " قربانی کا نظارہ عقلمند انسان کے لئے بہت مفید ہے۔اپنے اعمال کا مطالعہ کرو۔اپنے فعلوں میں ، باتوں میں ، خوشیوں میں ، ملنساریوں میں ، اخلاق میں غور کرو کہ ادنی کو اعلیٰ کے لئے ترک کرتے ہو یا نہیں ؟ اگر کرتے ہو تو مبارک ہے تمہارا وجود۔عیب دار قربانیاں چھوڑ دو۔تمہاری قربانیوں میں کوئی عیب نہ ہو، نہ سینگ کٹے ہوئے ، نہ کان کٹے ہوئے۔قربانی کے لئے تین راہیں ہیں۔(۱) استغفار۔(۲) دعا۔(۳) صحبت صلحاء۔انسان کو صحبت سے بڑے بڑے فوائد پہنچتے ہیں۔صحبت صالحین حاصل کرو۔قربانی کے لئے تین دن ہیں، پر روحانی قربانی والے جانتے ہیں کہ سب ان کے لئے یکساں ہیں“۔( خطبات نور صفحہ 378) سیدنا حضرت ماریہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس عید کا نام عید الاضحیہ رکھ کر بتایا کہ آپ کی امت کو خدا تعالیٰ اس قدر بڑھائے گا اگر ان میں سے اس موقعہ پر بہت کم قربانی کرنے والے ہوں گے تب بھی ان کی قربانیاں ایک بہت بڑا مجموعہ ہو جائیں گی۔پس یہ عید بڑی شاندار عید ہے جس کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی اس موقعہ پر لوگ بکروں اور دُنبوں کی قربانیاں کرتے ہیں لیکن قرآن کریم فرماتا ہے: لَنْ يَّنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ اللہ تعالیٰ کو ان قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ قربانی کرنے والوں کا تقویٰ پہنچتا ہے۔پس اصل قربانی وہ ہے جو انسان اپنی اور اپنے اہل وعیال کی پیش کرے اور یہی وہ سبق ہے جو عید الاضحیہ ہمیں سکھاتی ہے۔“ خطبہ عیدالاضحیه فرموده 19 اگست 1956 بمقام ربوه از الفضل 10 جون 1959) قربانی کا حقیقی فلسفہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔