عید الاضحیہ

by Other Authors

Page 5 of 15

عید الاضحیہ — Page 5

2 1 قربانی از روئے قرآن کریم ارشاد باری تعالی ہے: لا وَلِكُلّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكَاً لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُواء وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ o الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَى مَا أَصَابَهُمُ وَالْمُقِيمِي الصَّلوةِ * وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَه وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌى فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَاتَ : فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّطَ كَذَالِكَ سَخَّرُنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ، لَنْ يَّنَالَ الله لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوى مِنكُمُ ، كَذَالِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلى مَا هَدَكُمْ، وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ ( سورة الحج : 35-38) اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کیا ہے تا کہ وہ اللہ کا نام اُس پر پڑھیں جو اس نے انہیں مویشی چوپائے عطا کئے ہیں۔پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔پس اس کے لئے فرمانبردار ہو جاؤ۔اور عاجزی کرنے والوں کو بشارت دے دے۔ط ان لوگوں کو کہ جب اللہ کا ذکر بلند کیا جاتا ہے تو ان کے دل مرعوب ہو جاتے ہیں اور جو اس تکلیف پر جو انہیں پہنچی ہو صبر کرنے والے ہیں اور نماز کو قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اور قربانی کے اونٹ جنہیں ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ میں شامل کر دیا ہے ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔پس ان پر قطار میں کھڑا کر کے اللہ کا نام پڑھو۔پس جب ( ذبح کرنے کے بعد ) ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت کرنے والوں کو بھی کھلاؤ اور سوال کرنے والوں کو بھی۔اسی طرح ہم نے انہیں تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے تا کہ تم شکر کرو۔ہرگز اللہ تک نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون لیکن تمہارا تقویٰ اس تک پہنچے گا۔اسی طرح اُس نے تمہارے لئے انہیں مسخر کر دیا ہے تا کہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس بنا پر کہ جو اس نے تمہیں ہدایت عطا کی اور احسان کرنے والوں کو خوشخبری دیدے۔“ (ترجمہ: بیان فرمودہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ) سنت ابراہیمی کے مطابق ہر سال دسویں ذوالحجہ کو حج کی برکات میسر آنے کی خوشی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم الشان قربانی کی یاد میں عیدالاضحیہ یا عید قربان منائی جاتی ہے۔نماز عید کا اجتماع ایک رنگ میں مسلمانوں کی ثقافت اور دینی عظمت کا مظہر ہوتا ہے اس لئے اس میں خواتین و حضرات ، بچے اور بچیاں سبھی شامل ہوتے ہیں۔حتی کہ اجتماع عید میں خواتین مخصوص ایام میں بھی الگ بیٹھ کر ذکر الہی اور تسبیح و تحمید کرتی ، خطبہ عید سنتی اور دعا میں شامل ہوتی ہیں۔تا وہ بھی اس عظیم الشان ابراہیمی قربانی کا فیضان حاصل کر سکیں۔قربانی کی روح اور حقیقت سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے پر معارف خطبہ عید الاضحیہ میں جو خطبہ الہامیہ کے نام سے موسوم ہے، قربانی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اے خدا کے بندو! اپنے اس دن میں کہ جو بقر عید کا دن ہے غور کرو اور سوچو۔کیونکہ ان قربانیوں میں عقلمندوں کے لئے بھید پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔۔۔اور ان کو اُن قربانیوں پر سبقت ہے کہ جو نبیوں کی پہلی امتوں کے لوگ کیا کرتے تھے۔۔۔اور یہ کام ہمارے دین