عید الاضحیہ — Page 13
18 17 جمعۃ المبارک اور عید کی نمازوں میں قرآن کریم کی تلاوت کے بارہ میں مختلف سورتوں کی تلاوت کا روایات میں ذکر ملتا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کرتے۔بعض روایات میں سورۃ ق اور سورۃ القمر اور دیگر سورتوں یا آیات کی تلاوت کا بھی ذکر ملتا ہے۔تاہم دیگر نمازوں کی طرح عیدین کی نماز میں بھی امام مَا تَيَسَّر کے حکم کے تحت قرآن کریم کا کوئی بھی حصہ پڑھ سکتا ہے۔( خلاصه: سنن ابو داؤد كتاب الصلواة باب ما يقرأبه في الجمعة) قربانی اور اس کے مسائل قربانی ہر صاحب استطاعت کے لئے سنت مؤکدہ اور واجب ہے۔جو شخص اکیلا قربانی دینے کی توفیق نہ رکھتا ہو وہ اجتماعی قربانی میں حصہ ڈال سکتا ہے۔صلى الله حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک بقر عید کے موقع پر آنحضور علی کے ساتھ عید گاہ میں میں بھی موجود تھا۔جب حضور علی نے خطبہ مکمل کیا تو منبر سے اترے اور ایک مینڈھالایا گیا۔حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے ذبح کیا اور فرمایا: بِسْمِ اللهِ اللهُ اَكْبَرُ۔یہ میری طرف سے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے ہے جنہوں نے قربانی نہیں کی۔(سنن ابو داؤد كتاب الضحايا باب فى الشاة يضحى بها عن جماعة) قربانی سنت انبیاء ہے۔حدیث میں آتا ہے: عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذِهِ الَا صَاحِيُّ ؟ قَالَ سُنَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ۔(ابن ماجه ابواب الاضاحي باب ثواب الاضحية، حديث نمبر 3127) حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا۔یارسول اللہ یہ قربانیاں کیا چیز ہیں (یعنی ان کی کیا حیثیت ہے )۔آپ نے ارشاد فرمایا۔یہ تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الصَّحَايَا أَوَاجِبَةٌ هِيَ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مِنْ بَعْدِهِ وَجَرَتْ بِهِ (ابن ماجه ابواب الاضاحي ، باب ثواب الاضحية، حديث نمبر 3123) حضرت امام محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا کہ کیا قربانی واجب ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی دی آپ کے بعد مسلمانوں نے اسے جاری رکھا۔اس طرح یہ سنت جاری ہو گئی۔قربانی کا جانور قربانی کے جانور کے بارہ متعدد احادیث میں ذکر ملتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِيَ اشْتَرَىٰ كَبُشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِيْنَيْنِ أَقْرَنَيْنِ۔۔۔وَذَبَحَ أَحَدُ هُمَا عَنْ أُمَّتِهِ وَ ذَبَحَ الْآخَرَعَنُ مُحَمَّدٍ وَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ عل الله۔صلى الله (ابن ماجه، ابواب الاضاحی، باب ام رسول الله ، حدیث نمبر (3122) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دوموٹے تازے صحت مند سینگوں والے دُنبے خریدتے۔ایک اپنی امت کی طرف سے دوسرا اپنی اور اپنی آل کی طرف سے قربانی کے لئے پیش کر دیتے۔قربانی کے لئے اونٹ ،گائے ، بکری، بھیٹر ، دنبہ ان میں سے کوئی سا جانور ذبح کیا جاسکتا ہے۔اجتماعی قربانی کی صورت میں اونٹ کی قربانی میں دس افراد شامل ہو سکتے ہیں جبکہ