عید الاضحیہ — Page 14
20 20 19 گائے کی قربانی کے سات حصے ہو سکتے ہیں۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ الله الله في سَفَرٍ فَحَضَرَ الأَضْحَى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةٌ وَفِي الْجُزُورِ عَشَرَةً۔أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحُ مَكَانَهَا أُخْرَى وَمَنْ لَمْ يَذْبَحُ فَلْيَذْبَحُ بِاسْمِ اللهِ۔(بخاری کتاب التوحيد باب السوال باسماء الله تعالى والاستعاذه بها) حضرت جندب بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عید الاضحی کے دن (ترمذی ابوب الحج باب ماجاء فى الاشتراك في البدنة والبقرة ،حديث نمبر905) دیکھا کہ پہلے آپ نے نماز پڑھائی پھر آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس شخص نے نماز عید یعنی ایک سفر پر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ عید الاضحیٰ آگئی، تو گائے میں سات افراد نے حصہ لیا اور اونٹ کی قربانی میں دس افراد نے حصہ لیا۔اونٹ تین سال ، گائے دو سال اور بھیڑ بکری وغیرہ کم از کم ایک سال کی ہونی چاہئے۔قربانی کا جانور، کمزور اور عیب دار نہیں ہونا چاہئے لنگڑا ، کان کٹا سینگ ٹوٹا اور کا ناجانور جائز نہیں اسی طرح بیمار اور لاغر کی قربانی بھی درست نہیں۔پڑھنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر لیا وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی تک ذبیح نہیں کیا وہ اب بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے دومینڈھے قربانی کئے۔ذبح کرتے وقت اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا۔بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ پڑھا۔اور اپنے ہاتھ سے ان کو ذبح کیا۔( صحیح بخاری کتاب الا اضاحي باب تكبير عند الذبح،حدیث نمبر 336) قربانی 10 ذوالحجہ کو نماز عید کے بعد سے لے کر 12 ذوالحجہ کو غروب آفتاب سے قبل (جامع ترمذی ابواب الاضاحي باب مالا يجوز من الأضاحي،حدیث نمبر 1497) تک کی جاسکتی ہے۔قربانی کا وقت قربانی عید الاضحی کی نماز پڑھ کر کی جاتی ہے پہلے نہیں۔اس بارہ میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ نَحْرٍ فَقَالَ لَا يَذْبَحَنَّ أَحَدُكُمُ حَتَّى يُصَلِّى۔( ترمذی ابواب الاضاحي باب في الذبح بعد الصلوة، حديث نمبر 1507) حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ قربانی کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ تم میں سے کوئی نماز (عید) سے پہلے قربانی ذبح نہ کرے۔عَنْ جُنْدَبٍ شَهِدَ النَّبِيُّ الله يَوْمَ النَّحْرِ صَلَى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ قربانی کا گوشت قربانی کا گوشت صدقہ نہیں ہر کوئی کھا سکتا ہے۔خود بھی کھا ئیں ،عزیز رشتہ داروں اور دوست احباب، ہمسائے اور غرباء میں بھی تقسیم کرنا چاہیئے۔بہتر ہے کہ گوشت کے تین حصے کر کے تقسیم کیا جائے۔ایک حصہ اپنے لئے ، دوسرا عزیز رشتہ داروں کے لئے اور تیسرا حصہ اگر جماعتی نظام ہو تو اس کے ذریعہ غرباء ومستحقین میں یا اُن لوگوں میں جنہوں نے قربانی نہیں کی تقسیم کیا جانا چاہئے۔اور جہاں جماعتی انتظام نہ ہو وہاں خود تقسیم کرنا چاہئے۔