عید الاضحیہ

by Other Authors

Page 15 of 15

عید الاضحیہ — Page 15

22 21 سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں: قربانی کے گوشت کے متعلق یہ ہے کہ یہ صدقہ نہیں ہوتا۔چاہئے کہ خود کھائیں ، دوستوں کو دیں چاہے تو سکھا بھی لیں۔امیر غریبوں کو دیں ،غریب امیروں کو کہ اس سے محبت بڑھتی ہے لیکن محض امیروں کو دینا (دین) کو قطع کرنا ہے اور محض غریبوں کو دینا اور امیروں کونہ دینا ( دین ) میں درست نہیں۔امیروں کے غریبوں اور غریبوں کے امیروں کو دینے سے محبت بڑھتی ہے اور مذہب کی غرض جو محبت پھیلانا ہے پوری ہوتی ہے۔پس چاہئے کہ امیر غریبوں کو دیں اور غریب امیروں کو تا کہ محبت بڑھے۔“ (خطبہ عیدالاضحیہ 5 راگست 1922 بمقام قادیان از الفضل 17 اگست 1922) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع فرماتے ہیں: ”جب قربانی کا گوشت کھاؤ تو یا درکھو تمہیں اپنی جان ، مال، بچوں کی قربانی ہے جو خدا کے حضور پیش کرنی ہے اور وہی اصل عید ہے جو مومن کو یہ قربانیاں یاد دلاتی ہیں۔تو اس کو نہ بھولیں۔۔۔غریبوں کو اس قربانی میں خصوصیت سے یادرکھیں اور جہاں تک ممکن ہو اپنے گھر کے لئے رکھے ہوئے گوشت کے علاوہ یا نظام جماعت کی معرفت یا اپنے طور پر براه راست غریبوں میں گوشت تقسیم کریں کیونکہ یہ وہ ایک دن ہے جس میں کئی بلکہ لاکھوں کروڑوں غریب ایسے ہوں گے جن کو بس اسی دن گوشت نصیب ہوتا ہے۔تو یا درکھیں کہ اس کی لذت میں جب تک آپ غربا کو شامل نہ کریں آپ کا دل لذت پاہی نہیں سکتا یعنی حقیقی لذت نہیں پاسکتا۔پس جہاں تک ممکن ہے زیادہ سے زیادہ غربا میں یہ گوشت تقسیم کریں۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے نظام جماعت کی معرفت بھی کریں اور خود بھی اپنے گردو پیش نظر ڈال کر جہاں تک توفیق ہے اس اہم اور قربانی میں شامل عمل کی توفیق پائیں کیونکہ یہاں غریب کو گوشت پہنچانا بھی آپ کی قربانی کا ایک جزو بن جائے گا اور یہ جزو آپ کی لذت میں اضافہ کرے گا۔“ خطبہ 18 اپریل 1997 ئاز خطبات عید بن صفحہ 626) قربانی کا گوشت محفوظ کیا جا سکتا ہے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع فرماتے ہیں: ”جہاں تک قربانی کے گوشت کا تعلق ہے۔یاد رکھیں کہ اگر تیسرا حصہ اس کا اپنے لئے رکھ لیں اور باقی دوحصوں کو غر با اور مسکینوں اور دوسرے رشتے داروں وغیرہ پر تقسیم کر دیں تو یہ عین سنت کے مطابق ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور ایسے گوشت کو اگر سنبھالا بھی جا سکتا ہو کچھ عرصے کے لئے قربانی کے گوشت کو تو یہ منع نہیں ہے۔“ ( خطبہ عیدالاضحیہ 28 مارچ 1999 از خطبات عیدین صفحه 649) قربانی کے گوشت کے بارہ میں سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الرابع مزید فرماتے ہیں: آنحضور علیہ کے زمانے میں عید الاضحی کے موقع پر بادیہ نشینوں میں سے کچھ گیت گانے والے آئے، یہ محتاج لوگ تھے۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تین دن تک کھانے کے لئے گوشت جمع کر لو اور باقی انہیں خیرات کر دو تا کہ وہ بھو کے نہ رہیں۔اس کے بعد آئندہ سال صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگ اپنی قربانیوں کی کھالوں سے مشکیں بناتے ہیں اور ان میں چربی ڈالتے ہیں اس پر حضور نے فرمایا پھر کیا ہوا؟ انہوں نے کہا آپ نے ہی تو ہمیں تین دن کے بعد قربانی کے گوشت سے منع فرمایا ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا میں نے تو تمہیں ان باہر سے آنے والوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت آگئے تھے۔جاؤ اور گوشت کھاؤ اور جمع کرو اور اس سے صدقہ اور خیرات بھی کرو اس لئے آپ بڑے شوق سے رکھ لیا کریں قربانی کا گوشت۔لیکن زیادہ دیر فرج میں رکھنا بھی ٹھیک نہیں۔وہ کنجوسی ہے۔جس حد تک ممکن ہو اس کو تقسیم کر دیا کریں۔“ خطبہ 12 فروری 2003 از خطبات عیدین 710،709)