قربانی کا سفر — Page 33
عجیب خطوط ملتے رہتے ہیں۔ایک نوجوان کا پاکستان سے خط آیا ہے ان کو خدا تعالیٰ نے ایک جگہ کام دیا ، اس کام کے لئے انہوں نے پیسے اکٹھے کر کے ضرورت کے مطابق ایک موٹر بھی خریدی۔لیکن جب یہ تحریک ہوئی تو اس وقت ان کے پاس پھر کوئی اور پیسہ بچا نہیں تھا۔مجھے ان کا خط ملا کہ میں اس بارہ میں سوچتا رہا اور دن بدن زیادہ مجھ پر یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ یہ کوئی عام تحریک نہیں ہے۔گزشتہ چودہ سو سال میں دنیا کی کسی کی جماعت کو ایسی توفیق نہیں ملی۔ایسے عجیب کام کی طرف بلایا ہی نہیں گیا کہ چند سالوں کے اندر سو زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم پیش کر دو اور تمام دنیا میں قرآن کریم کے تراجم پھیلا دو۔اب تک کی تاریخ میں مل کر بھی اتنی زبانوں میں ترجمے نہیں ہوئے۔تو میں نے کہا کہ آئندہ تو بہت ہوں گے ، انشاء اللہ ہر زبان میں دنیا کے لیے جیے میں قرآن کریم کے تراجم ملیں گے لیکن اس وقت کو دنیا ہمیشہ حسرت سے یاد کرے گی کاش ہم بھی اس وقت زندہ ہوتے ،کاش ہمیں بھی توفیق ملی ہوتی۔اس نوجوان نے ، وہاں بھی اس کی عبارت ایسی خوبصورت ہو گئی ہے ایسی زندہ ہو گئی ہے عام حالات میں میرا خیال نہیں تھا کہ اس کو اچھی اردو لکھنی آتی ہے لیکن یہاں تو جذبہ ایمان سے زبان بن رہی ہے بہت ہی پُر لطف زبان میں اس نے اپنے دل کا ماجرا لکھا ہے کہ یہ یہ میں نے سوچا ، یہ یہ میرے دل پر گزرتی رہی۔وہ کہتے ہیں کہ آخر ایک دن خدا تعالیٰ نے مجھے تو فیق عطا فرمائی کہ میں نے کار بیچ دی اور پچاس ہزار روپے مجھے اس کے ملے اور وہ میں نے اس تحریک میں پیش کر دیئے۔میں اس لیے نہیں لکھ رہا کہ میں نے یہ قربانی کی ہے۔کہنا ہے میں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ اس سے مجھے مزہ آیا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔اس لذت کا بیان میرے احاطہ تحریر میں نہیں آسکتا اور کہتا ہے اب میں سائیکل پر جاتا ہوں اور 33