قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 34 of 81

قربانی کا سفر — Page 34

ہر پیڈل پر مجھے مزہ آ رہا ہوتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہوں۔یہ ہے اظہار تشکر جو ہم نے منانا ہے سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے احسانات میں سے قربانی پیش کرنے کا احسان ہے اور یہ اپنی ذات میں جزا ہے۔بھول جائیں اس بات کو کہ اس کے بعد آپ کو جزا ملے گی۔یہ اپنی ذات میں جزا ہے، جس کو کوئی اور جزا بدل نہیں سکتی۔(خطبہ جمعہ 15 جنوری 1988 ء خطبات طاہر جلد 7 ص51) حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے 26 اکتوبر 1984ء کے خطبہ جمعہ میں یہ اعلان فرمایا کہ جماعت لیبیا ایک ترجمۃ القرآن کے اخراجات ادا کرنے کا وعدہ کرتی ہے اور بحیثیت جماعت ہم اس میں شامل ہوں گے ، چنانچہ فرمایا:- مثلاً جب میں نے بتایا کہ ہم نے ایک قرآن کریم طبع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو خدا نے ایک آدمی پیدا کر دیا کہ سارا خرچ میں دوں گا۔دوسرے کا فیصلہ ہوا تو ایک اور آدمی پیدا کر دیا، تیسرے کا فیصلہ ہو ا تو خدا نے ایک اور پیدا کر دیا۔یعنی قرآن کریم کے تراجم ابھی مکمل نہیں ہوتے کہ خدا تعالیٰ آدمی بھیج دیتا ہے کہ اس خرچ کو وہ اُٹھائے گا۔تو بعض جماعتوں کی طرف سے بعض افراد کی طرف سے بڑی درد ناک چٹھیاں آنی شروع ہوئیں اللہ ان کو جزاء دے کہ ہمارے دل کا عجیب حال ہے ایسی بے قرار تمنا پیدا ہوئی ہے، برداشت نہیں کر سکتے ، کاش خدا ہمیں توفیق دے کہ ہم بھی ایک پورے قرآن کریم کے ترجمے کا خرچ اُٹھا ئیں۔ایک دو کی بات نہیں ہے بیسیوں ایسے دوست ہیں جن کے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ تمنا تڑپا دی ہے ان کے دلوں میں اور بعض جماعتوں نے پھر پیش بھی کر دیا۔چنانچہ لیبیا کے احمدیوں نے اس معاملہ میں پہل کی اور مجھے لکھا کہ ہم میں سے ایک آدمی تو نہیں ہے ایسا لیکن آئندہ ترجمہ قرآن کریم جو شائع ہونے والا 34