قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 64 of 81

قربانی کا سفر — Page 64

دیئے۔یہ عورت بہت غریب تھی۔اس نے دو چار مرغیاں رکھی ہوئی تھیں جن کے انڈے فروخت کر کے اپنی کچھ ضروریات پوری کیا کرتی تھیں باقی دفتر کی امداد پر گزارا چلتا تھا۔ایک پنجابی خاتون جس کی واحد پونچی صرف ایک زیور تھا وہی اُس نے مسجد کے لئے دے دیا۔ایک بیوہ عورت جو یتیم پال رہی تھی اور زیور یا نقدی کچھ بھی پاس نہ تھا اُس نے استعمال کے برتن ہی چندہ میں دے دیئے۔حضرت بانی تحریک جدید احمدی خواتین کی زیورات کی قربانی کو یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔حضور جماعت کی قربانی اور مطالبات کی تعمیل پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- دنیا میں تو جھگڑے ہوتے ہیں کہ میاں بیوی کی لڑائی ہوتی ہے تو بیوی کہتی ہے مجھے زیور بنوا دو اور میاں کہتا ہے میں کہاں سے زیور بنوادوں میرے پاس تو روپیہ ہی نہیں لیکن میں نے اپنی جماعت میں سینکڑوں جھگڑے اس قسم کے دیکھے ہیں کہ بیوی کہتی ہے میں اپنا زیور خدا تعالیٰ کی راہ میں دینا چاہتی ہوں مگر میرا خاوند کہتا ہے کہ اور وقت کام آ جائے گا۔غرض خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایسا اخلاص بخشا ہے کہ اور عورتیں تو زیور کے پیچھے پڑتی ہیں اور ہماری عورتیں زیور لے کر ہمارے پیچھے پھرتی ہیں۔میں نے تحریک وقف کی تو ایک عورت اپنا زیور میرے پاس لے آئی۔میں نے کہا میں نے سر دست تحریک کی ہے کچھ مانگا نہیں۔اس نے کہا یہ درست ہے کہ آپ نے مانگا نہیں، لیکن اگر کل ہی مجھے کوئی ضرورت پیش آگئی اور میں یہ زیور خرچ کر بیٹھی تو پھر میں کیا کروں گی۔میں نہیں چاہتی کہ میں اس نیکی میں حصہ لینے سے محروم رہوں۔اگر آپ اس وقت لینا نہیں چاہتے تو بہر حال یہ زیور اپنے پاس امانت کے طور رکھ لیں اور جب بھی 64