قربانی کا سفر — Page 58
جائے تو کس طرح اللہ تعالیٰ سلسلہ برکات کا نزول فرماتا ہے۔آپ نے یہ واقعہ یوں بیان فرمایا۔ابھی کل ہی مجھے ایک دوست کا خط ملا ہے کہ میں سوچ رہا تھا کہ تحریک جدید کا نیا سال شروع ہونے والا ہے، میں اپنا وعدہ تین ہزار روپے لکھواؤں اور بیوی بچوں کی طرف سے اور بزرگوں کی طرف سے ملا کے میں اس سال اس کو بڑھا کر پانچ ہزار کر دیتا ہوں۔تو کہتے ہیں خیال میں آیا کہ ادا کس طرح ہوگا ؟ لیکن میں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ میں نے بہر حال اللہ کی توفیق سے انشاء اللہ اتنا ہی یعنی پانچ ہزار روپے کا وعدہ لکھوانا ہے۔کہتے ہیں اتنے میں ایک صاحب آئے اور ایک لفافہ مجھے دے گئے ، کھولا تو اس میں تین ہزار روپے تھے ،کسی نے عید کے تحفے کے لئے بھیجے تھے۔تو کہتے ہیں میں اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر کر رہا تھا کہ ابھی تو سوچا ہی تھا کہ بڑھانا ہے تو اللہ تعالیٰ نے نواز دیا۔اسی دوران پھر ایک اور صاحب آئے ، ایک لفافہ آیا جس میں پانچ ہزار روپے تھے، باہر سے کسی دوست نے ان کو تحفہ بھیجا تھا۔تو کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ ابھی تو میں نے ارادہ ہی کیا ہے کہ وعدہ بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش شروع ہو گئی ہے۔تو اللہ تعالیٰ جس طرح اس نے فرمایا ہے پھر پور کر کے لوٹاتا ہے تو انہوں نے کہا چلو جب اس طرح آ رہا ہے تو وعدہ ہی پانچ ہزار کی بجائے دس ہزار کر دو اور پھر اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تو یہ وعدہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک شروع ہوا ہے تمہارا کیا ارادہ ہے؟ بیوی نے بھی اپنا وعدہ بڑھا یا کہ میرا بھی اتنا لکھوا دیں۔میں ان کو ذاتی طور بھی جانتا ہوں ان کے ذرائع ایسے نہیں ہیں کہ آسانی سے اتنا دے سکیں لیکن کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کا فہم و ادراک ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی پر یقین ہے، دین کی ضرورت کا 58