قربانی کا سفر — Page 2
خلاصہ کلام یہ کہ ان دو بیٹوں میں سے ایک کی قربانی مقبول ہوئی اور دوسرے کی رڈ ہو گئی۔یہ پہلا سبق تھا جو کہ بنی نوع انسان کو سکھایا گیا کہ خدا کے حضور وہی قربانی مقبول ہے جو ہر طرح کی ملاوٹ اور الائش سے پاک ہو اور جس کا مقصد حصول خوشنودی ایزدی ہو اور مکمل اخلاص سے پیش کی گئی ہو۔قرآن کریم اس اصول قربانی کو اس طرح یوں بیان فرماتا ہے۔لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاءُ هَا وَلَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّر و اللَّهَ عَلَى مَاهَدَكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ۔(یاد رکھو کہ ) ان قربانیوں کے گوشت اور خون ہرگز اللہ تک نہیں پہنچتے لیکن تمہارے دل کا تقویٰ اللہ تک پہنچتا ہے (در حقیقت ) اس طرح اللہ نے ان قربانیوں کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے تاکہ تم اللہ کی ہدایت کی وجہ سے اس کی بڑائی بیان کرو۔اور تو اسلام کے احکام کو پوری طرح ادا کرنے والوں کو بشارت دے۔قربانی کے عمل پر مزید غور کرنے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ جب ایک شخص کسی کو کوئی تحفہ دیتا ہے اور تحفہ دینے والا اپنے مال کی قربانی کرتا ہے لیکن جس کے لئے یہ قربانی ہوتی ہے وہ اسے تحفہ قبول کر کے لیتا ہے۔مثلاً کوئی شوہر اپنی اہلیہ کو زیور بطور تحفہ دیتا ہے تو زیور اس خاتون کے لئے تحفہ کو حکم رکھتا ہے مگر خریدنے والے کی مالی قربانی کا شاہکار۔جب وہ خاتون اس تحفہ کو قبول کرتی ہے اور جس کیفیت سے اور مسکراہٹ کے ساتھ وہ اس زیور کو زیب تن کرتی ہے تو اس شوہر کو ایسا لگتا ہے کہ زیور کی قیمت وصول ہو گئی۔ہمارے پیارے نبی ﷺ نے یہ فلسفہ تحائف بیان کیا تحائف سے محبت 2