قربانی کا سفر — Page 3
الله بڑھتی ہے۔اگر تحفہ دینے والا اپنی نیت کو اور نکھارتا اور یہ کہتا کہ میں یہ اس لئے دے رہا ہوں کہ خدا کے رسول ﷺ نے اہل سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے اور تحائف سے محبت بڑھنے کا مژدہ سنایا ہے اور اس تحفہ دینے والے یعنی قربانی کرنے والے کے ثواب میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا۔قربانی کی اس داستان کو ذرا آگے لے کر چلیں جب حضرت ابراہیم نے رویاء میں دیکھا کہ آپ اپنے بیٹے کی قربانی دے رہے ہیں۔آپ نے حضرت اسماعیل کی رضامندی پر اس عمل کی تیاری شروع کی۔جب آپ نے قصد کیا اور قربانی کے عمل کی شروعات کی تو خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ آگاہ کیا کہ اس عمل کی شروعات کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کی یہ قربانی قبول فرمائی ہے۔بنی نوع انسان کے لئے قربانی کے ضمن میں دوسری مرتبہ یہ سبق دیا گیا کہ اگر نیت خالص اور محض اللہ ہے تو وہ بارگاہ ایزدی میں مقبول ہے۔کسی شاعر نے اپنے خاص انداز میں اس اخلاص قلب کی یوں نشاندہی کی۔خلوص دل سے ہو جو سجدہ اس سجدے کا کیا کہنا ہیں کعبہ سرک آیا جبین ہم نے جہاں رکھ دی آئیے اب مزید آگے چلیں اور قربانی کے تصور کی انتہائی منزل کو مشاہدہ کریں کہ کس طرح نبیوں کے سردار حضرت محمد ﷺ کی زندگی کیسے قربانی کی معراج پیش کرتی ہے جس کے بارے میں خدا تعالیٰ خود گواہی دیتا ہے چنانچہ سورہ مائدہ آیت 163 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمينَ تو (اُن سے ) کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری 3