قربانی کا سفر — Page 23
1940 ء میں بعض مخلصین نے نامساعد حالات میں شاندار قربانیاں پیش کیں۔نمونہ کے طور پر ان میں سے چند ایک واقعات درج کئے جاتے ہیں۔یہ غرباء کی عظیم قربانیوں کا ایک چھوٹا سا نمونہ پیش کرتے ہیں۔وو ایک فدائی نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں یوں لکھا:- پچھلے سال اور اس سال میں مالی مشکلات میں مبتلا رہا ہوں اور ہوں۔پہلے ارادہ کیا تھا کہ اس سال میں روپے حضور کی خدمت میں پیش کر کے باقی اس کی اس شرط پر معافی چاہوں گا کہ اگر بقایا ادا کر سکا تو بہتر ورنہ حضور معافی دے دیں۔مگر ( حضور کا خطبہ پڑھ کر ) اسی وقت سے میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ اگر مجھے گھر کا تمام سامان فروخت کرنا پڑے تو کر دوں گا۔مگر حضور کے ارشاد کی تعمیل ضرور کروں گا۔“ (الفضل 8 نومبر 1940ء) ایک اور مخلص نے تحریر کیا۔39 اب جو حضور کے پاک کلمات پہنچے تو بدن میں آگ سی لگ گئی۔روح بیچین ہو گئی۔پیارے آقا! اس ماہ میں مقروض بھی ہوں تا ہم اپنا وعدہ حضور کے قدموں میں ڈال رہا ہوں اگر چہ یہ حقیر رقم ہے مگر قبولیت پر ممکن ہے میری عاقبت بخیر ہو‘“ (الفضل 8 نومبر 1940ء) ایک اور فدائی نے کہا۔خاکسار نے حضور سے مہلت کی درخواست کی جو منظور ہو چکی ہے مگر میرے دل نے کہا کہ آخری تاریخ سے پہلے ہی چندہ داخل کرنا ضروری ہے اس لیے میں نے زیور فروخت کر کے ادا کر دیا ہے۔“ (الفضل 24 نومبر 1940ء) اسی طرح ایک اور مجاہد نے لکھا: - ”خاکسار گزشتہ چھ سالوں میں کم و بیش حصہ لیتا رہا یہ صرف حضور کی 23