قربانی کا سفر — Page 17
رقت طاری ہوئی کہ چیچنیں مار کر رونے لگ گئے اور ان کے رونے کی جب ان کو ذرا صبر آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ روئے کیوں ہیں۔وہ کہنے لگے میں غریب آدمی تھا مگر جب بھی مجھے چھٹی ملتی پھر قادیان آنے کے لیے چل پڑتا تھا۔سفر کا بہت سا حصہ میں پیدل ہی طے کرتا تھا تا کہ سلسلہ کی خدمت کے لیے کچھ پیسے بچ جائیں مگر پھر بھی روپیہ ڈیڑھ روپیہ خرچ ہو جاتا یہاں آکر جب میں امراء کو دیکھتا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے بڑا روپیہ خرچ کر رہے ہیں تو میرے دل میں خیال آتا کہ کاش میرے پاس بھی روپیہ ہو اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بجائے چاندی کا تحفہ لانے کے سونے کا تحفہ پیش کروں۔آخر میری تنخواہ کچھ زیادہ ہوگئی (اس وقت ان کی تنخواہ شاید میں چھپیں روپیہ تک پہنچ گئی تھی اور میں نے ہر مہینے کچھ رقم جمع کرنی شروع کر دی اور میں اپنے دل میں یہ نیت کی کہ یہ رقم اس مقدار تک پہن جائے گی جو میں چاہتا ہوں تو میں اسے پونڈوں کی صورت میں تبدیل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کروں گا۔پھر کہنے لگے جب میرے پاس ایک پونڈ کے برابر رقم جمع ہو گئی تو وہ رقم دے کر میں نے ایک پونڈ لے لیا۔پھر دوسرے پونڈ کے لئے رقم جمع کرنی شروع کر دی اور جب کچھ عرصہ کے بعد اس کے لیے رقم جمع ہو گئی تو دوسرا پونڈ لے لیا۔اسی طرح میں آہستہ آہستہ کچھ رقم پونڈوں کی صورت میں تبدیل کرتا رہا اور میرا منشا یہ تھا کہ میں یہ پوند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کروں گا۔مگر جب میرے دل کی آرزو پوری ہو گئی اور پونڈ میرے پاس جمع ہوگئے تو یہاں تک وہ پہنچے تھے کہ پھر ان پر رقت کی حالت طاری ہو گئی اور وہ رونے لگ گئے۔آخر روتے روتے انہوں نے اس فقرے کو اس طرح پورا کیا کہ جب پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو 17