قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 14 of 81

قربانی کا سفر — Page 14

دیئے گئے۔(فتح اسلام ص 22-21 ) اگلے سال 1891ء میں پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا اور کثیر تعداد میں مہمانان تشریف لائے۔ان کی ضیافت کا کل خرچ حضور اقدس نے خود برداشت کئے۔اس ضمن میں ایک عظیم تائیدی نشان ظاہر ہوا۔تاریخ احمدیت میں یوں درج ہے۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خرچ نہ رہا۔ان دنوں سالانہ جلسہ کے لیے چندہ جمع ہو کر نہیں جاتا تھا حضور اپنے پاس سے ہی صرف فرماتے تھے۔میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے آکر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لیے کوئی سالن نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کر لیں۔چنانچہ زیور فروخت یا رہن کر کے میر صاحب روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لیے سامان بہم پہنچادیا۔دو دن کے بعد پھر میر صاحب نے رات کے وقت میری موجودگی میں کہا کہ کل کے لئے پھر کچھ نہیں فرمایا کہ ہم نے رعایت اسباب کے انتظام کر دیا تھا۔اب ہمیں ضرورت نہیں جس کے مہمان ہیں وہ خود کر لے گا۔اگلے دن آٹھ یا نو بجے جب چٹھی رساں آیا تو حضور نے میر صاحب کو اور مجھے بلایا۔چٹھی رساں کے ہاتھ میں دس یا پندرہ کے قریب منی آرڈر ہوں گے جو مختلف جگہوں سے آئے تھے سوسو پچاس پچاس روپے کے۔اور ان پر لکھا تھا کہ ہم حاضری سے معذور ہیں۔مہمانوں کے صرف کے لیے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں آپ نے وصول فرما کر تو کل پر تقریر فرمائی۔کہ جیسا کہ ایک دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا۔اس سے زیادہ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر پورا تو کل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے۔اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ضرورت 14