قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 47 of 81

قربانی کا سفر — Page 47

خطبہ شائع ہوا تو باہر سے بھی اور اندر سے بھی ہمارے خدا نے زندہ ہونے کی کثرت سے مثالیں ملنی شروع ہو گئیں۔ایک غیر احمدی کا خط آیا کہ میں نے آپ کا خطبہ پڑھا تو میرا دل کانپ گیا کہ آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی تکلیف کی وجہ سے کس قدر دُکھ ہوا ہے۔میں سو روپیہ کا چیک آپ کو بھجوا رہا ہوں آپ اس روپیہ کو جس طرح چاہیں خرچ کریں پھر ایک اور خط کھولا تو وہ ایک احمدی کا تھا اور اس میں لکھا تھا کہ میں سو روپیہ بھجوا رہا ہوں تا کہ بیرونی مشنوں کے اخراجات میں جو کمی آئی ہے وہ اس سے پوری ہو سکے۔پھر ایک عورت کا خط آیا کہ میں پاس روپے بھجوا رہی ہوں تاکہ جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ ہو سکے۔پھر چوتھا خط میں نے کھولا تو اس میں ایک ترکی پروفیسر کا ذکر تھا۔ہمارا ایک احمدی ان دنوں ایک ترکی پروفیسر سے ترکی زبان سیکھ رہا ہے اور ایک سو بیس روپے ماہوار اسے ٹیوشن دیتا ہے وہ ترکی پروفیسر اسلام کا دشمن تھا اور رات دن اسلام اور جستی باری تعالیٰ پر اعتراض کرتا رہتا تھا وہ احمدی لکھتا ہے کہ میں نے فیصلہ کیا کہ چاہے میری پڑھائی ضائع ہو جائے میں نے آج اس سے مذہبی بحث کرنی ہے۔چنانچہ میں اس سے بحث کرتا رہا۔اور پھر میں نے اسے آپ کا لکھا ہوا دیباچہ قرآن دیا کہ وہ اسے پڑھنے کے بعد مجھے کہنے لگا کہ میں آج سے پھر سے مسلمان ہو گیا ہوں۔پھر جب مہینہ ختم ہوا اور میں اسے روپیہ دینے کے لئے گیا تو وہ کہنے لگا کہ تم مجھ پر یہ مہربانی کرو کہ یہ روپیہ میری طرف سے اپنے امام کو بھجوادو اور انہیں کہو کہ وہ جس طرح چاہیں اس روپیہ کو خرچ کریں اب دیکھو ایک دہر یہ انسان ہے خدا تعالیٰ پر رات دن ہنسی اڑاتا ہے۔اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔لیکن اس پر ایسا اثر ہوا ہے کہ جب اسے ٹیوشن کی فیس پیش کی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ روپیہ مجھے نہ دو بلکہ اپنے امام کے پاس بھیج دو اور انہیں کہو کہ وہ 47