اَدْعِیَۃُ القُرآن

by Other Authors

Page 7 of 28

اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 7

۱۳ ۱۲ مذاب الہی سے سینے مغفرت نیک انجام اور مع الابرارة (آل عمران : ۱۹۴) اسے ہمارے ریت یا ہم نے یقیناً ایک ایسے پکارنے والے کی آواز جو وعدہ الہی پورا ہونے اور روز قیامت ہوائی سے ایمان (دینے کے لئے بلاتا ہے (اور کہتا ہے) کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ شنی بچنے کی دعائیں ! حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ جب یہ دعائیہ آیات اتریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روتے روتے نماز شروع کردی۔حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع کرنے آئے تو رونے کا سبب پوچھا۔آپؐ نے فرمایا آج رات مجھ پر یہ آیات اُتری ہیں اور فرمایا بڑا بد بخت وہ شخص ہے جو یہ آیات پڑھے اور ان پر ہے پس ہم ایمان لے آئے اس لیے اسے ہمارے رب ! تو ہمارے قصور معاف کر اور ہماری بدیاں ہم سے مٹادے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ (ملاکر) وفات دے۔ام ربنا و اتنا ما وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَه (آل عمران : ۱۹۵) اسے ہمارے رب ! ہمیں وہ (کچھ) دے جن کا تو نے اپنے رسولوں (کی تدیر نہ کرے۔روایات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زبان پر اہم سے وعدہ کیا ہے اور قیامت کے دن ہمیں ذلیل نہ کرنا۔تو اپنے روزانہ رات کے وقت ان آیات کی تلاوت کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرتا۔کہ آل عمران کی آخری آیات رات کو پڑھنے والے کے لئے رات بھر کے قیام عفو و مغفرت ارحم اور دشمن متقابل نصرت طلبی کی جامع دعا کا ثواب لکھا جاتا ہے۔(تفسیر قرطبی جلد ۴ ص ۳) -۱۰ - دَيَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِه ( آل عمران : ۱۹۲) یہ دعائیں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات مشتمل ہیں۔حضرت ابو مسعود بیان کرتے ہیں کہ سورہ بقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھ کر سونے والے کیلئے اسے ہمارے رب ! تو نے اس عالم کو لیے فائدہ پیدا نہیں کیا۔تو بہت کافی ہیں۔نیز عرش کے اُس خزانہ میں سے ہیں جو آج تک آنحضرت سے پہلے (ایسے بے مقصد کام کرنے سے) پاک ہے۔پس تو میں آگ کے عذاب سے بچا۔کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔(تفسیر طبری برد ۳ (۲۳۲) اور ہماری زندگی کو بے مقصد بننے سے بچالے)۔١١- رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيْمَانِ ان امنوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَا ۖ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا سورہ بقرہ کی آخری دونوں دعائیہ آیات کے بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تاکید فرمایا کرتے تھے کہ ان آیات کو یاد کرو اور اپنے اہل و عیال کو یاد کراؤ۔کیونکہ یہ صلواۃ ، قرآن اور دعا پر مشتمل ہیں۔(الدر المنثور للسیوطی جلدا مث٣) اس جگہ ان دونوں آیات کا صرف دُعائیہ حصہ دیا جا رہا ہے :۔