اَدْعِیَۃُ القُرآن

by Other Authors

Page 17 of 28

اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 17

۳۲ ۳۲ مجنون اور برا کہا تو سخت دق ہو کر حضرت نوح نے اپنے ربت سے یہ دعا کی :- انِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرُ (القرد (1) رب لا تذر عَلَى الارْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَبَّارًا إِنَّكَ إن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا کہ (اے میرے رب !) مجھے دشمن نے مغلوب کر لیا ہے میں تو میرا بہار ہے۔كفاراه (نوح : ۲۸۱۲۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ دعا الماما ان الفاظ میں سکھائی گئی: رَبِّ إِنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرُ ۴۹ - فیصلہ طلبی کی دُعا اے میرے رب ! زمین پر کوئی گھر کا فروں کا باقی نہ رہے۔اگر تو ان کو اسی طرح چھوڑ دیگا تو یہ تیرے دوسرے بندوں کو بھی گمراہ کردیں گے اور وہ فابر کفر کرنے والے کے سوا کوئی بچہ نہ بنیں گے۔حضرت نوح علیہ السلام نے قوم کی تکذیب سے تنگ آکر فیصلہ کن نشان طلب ال۔اپنی اپنے والدین اور مومنوں کی بخشش کی دعا حضرت نوح نے منکرین ومحمد مبین کے خلاف الہی فیصلہ طلب کر کے پھر مومنوں کیا جس میں اپنی اور اپنی جماعت کی نجات کی دعا کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اس دعا کو قبول کیا اور ان کی قوم کو طوفان میں فرق کر کے نور اور ان کی قوم کو بھری ہوئی کے حق میں یہ دعا کی :- کشتی میں بچالیا۔(الشعراء : ۱۱۸ تا ۱۲۱) رَبّ اِن قَوْمى كَذَّبُونِ ، فَا فَتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا ونجى وَمَنْ مَّعِي مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (الشعراء: ١١٨ ١١٩) اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔پس تو میرے اور اُن کے درمیان ایک قطعی فیصلہ کر اور مجھے اور میرے ساتھی مومنوں کو (دشمن کے) شر سے بچائے۔۵۰ مینگرین اور مکذبین کے بارے میں دُعا رب اغفر لي ولوالدي وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِي مُؤْمِنًا و المؤمنينَ وَالْمُؤْمِنتِ ، وَلَا تَزه التعليمين الانباراه (نوح : ۲۹) اے میرے رب ! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن ہو کر داخل ہوتا ہے اُس کو بخش دے اور تمام مومن مردوں اور تمام مویشی رتوں کو بھی اور یوں ہو کہ خالہ صرف تباہی میں ہی ترقی کریں ان کو کامیابی نصیب نہ ہو۔۵۲۔ہدایت بنی نوع انسان کی دُعا حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت نوح نے اپنی قوم کے خلاف بالآخر تعمیر بیت اللہ کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعائیں کیں ان میں اُس وقت بد دعا کی جب آپ پر وحی ہوئی کہ اب تیری قوم میں سے اور کوئی شخص بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے عظیم الشان دعا بھی کی میں کے بارے میں نبی کریم ایمان نہیں لائے گا۔(ہود:۳۷) ( تفسير الدر المنثور جلده منا) صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دُعا کا نتیجہ ہوں۔(تغییر قریبی جزء ثانی من)