اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 18
۳۵ ۳۴ رَبَّنَا وَابْعَثُ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ الك ويعلمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزكيهم ۵۲ معد قوم کے مقابل پڑ گائے نصرت حضرت لوط علیہ اسلام نے اپنی قوم کو جب غیر اخلاقی حرکتوں سے باز رہنے إنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقره: ۱۳۰) اور اسے ہمارے رب ! ( ہماری یہ التجا بھی ہے کہ تو انہی میں سے ایک کی تلقین کی تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر تو سچا ہے تو عذاب لے آ۔اس پر حضرت ایسا رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب و ٹوٹ نے یہ دعا کی : حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔یقینا تو ہی غالب اور حکمتوں و ہے۔رب انصرني عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ (المكبرت (۳) اسے میرے رب ! مفسد قوم کے خلاف میری مدد کر۔۵۳ - دشمن پر گرفت کی دُعا ۵۵- بداعمال قوم کے بداثر ا سے بچنے کی دعا حضرت موسی علیہ السلام کی اس دعا کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ موسل علیہ السلام کو اُن کی دعا کی قبولیت کی اطلاع دی گئی اور انہیں ثابت قدمی اختیار کرنے اور جاہلوں کی پیروی نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ربَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَا لَا زِينَة وَأَمْوَالًا في الحيوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبيلكَ۔ربنا الطمس عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَرْلِيْمَه (يونس : ١٩) اسے ہمارے رب ! تو نے فرعون (کو) اور اُس کی قوم کے بڑے لوگوں کو حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو نصیحت کے جواب میں جب قوم نے یہ چمکی دی کہ اسے لوط ! اگر تو بانہ نہ آیا تو تجھے ملک بدر کر دیا جائے گا۔تو انہوں نے یہ دُعا کی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یہ دعا قبول کی اور لوط اور اس کے اہل کو رسوائے اس کی بیوی کے نجات دی۔اور ان کی قوم کو ہلاک کر کے رکھ دیا۔(الشعراء : ۱۶۶ تا ۱۷۴) رب نجوى واهلى مِمَّا يَعْمَلُونَ (الشعراء : ۱۷) اے میرے رب مجھے اور میرے اہل کو ان کے اعمال سے نجات دے۔(اس) ورلی زندگی میں زینت کے سامان) اور اموال دیے رکھتے ہیں مگر اسے ۵۶ - نافرمان قوم کے مقابل نشان طلب کرنے کی دعا ہمارے ربت ا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ وہ تیرے رستہ سے (لوگوں کو برگشتہ کر رہے ہیں۔پس اسے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو برباد کردے اور ان کے دلوں پر بھی سزا نازل کر جس کا یہ نتیجہ نکلے کہ جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھے ہیں ایمان نہ لائیں۔حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو ارض مقدسہ پر فتح کی خبر دیک اس میں داخل ہونے کا حکم دیا تو انہوں نے انکار کیا۔اس پر حضرت موسی علیہ اسلام نے یہ دعا کی جیسی کے نتیجہ میں چالیس سال کے لیے یہ سرزمین قوم سولی پر حرام کر دی گئی۔(الماده ۳۲تا۱۷)