تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 69

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۹ سورة الحاقة لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ - لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ سے ظاہر ہوتا ہے اور یہاں چوبیس سال سے روزانہ افتر اخدا پر ہوا اور خدا اپنی سنت قدیمہ کو نہ برتے۔بدی کرنے میں اور جھوٹ بولنے میں کبھی مداومت اور استقامت نہیں ہوتی۔آخر کار انسان دروغ کو چھوڑ ہی دیتا ہے۔لیکن کیا میری ہی فطرت ایسی ہورہی ہے کہ میں چوبیس سال سے اس جھوٹ پر قائم ہوں اور برابر چل رہا ہوں اور خدا بھی بالمقابل خاموش ہے اور بالمقابل ہمیشہ تائیدات پر تائیدات کر رہا ہے۔پیشگوئی کرنا یا علم غیب سے حصہ پانا کسی ایک معمولی ولی کا بھی کام نہیں۔یہ نعمت تو اس کو عطا ہوتی ہے جو حضرت احدیت مآب میں خاص عزت اور وجاہت رکھتا ہے۔(الکام جلد ۸ نمبر ۲۰۱۹ مورخه ۱۰ تا ۷ ارجون ۱۹۰۴ صفحه ۶) ہم اپنی زبان سے کسی کو مفتری نہیں کہتے۔جبکہ وحی شیطانی بھی ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ کسی سادہ لوح کو دھوکا لگا ہو۔اس لیے ہم فعل الہی کی سند پیش کرتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ پیش کی تھی اور خدا تعالیٰ نے فعل پر بہت مدار رکھا ہے۔وَلَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ میں فعل ہی کا ذکر ہے۔پس جبکہ یہ مسنون طریق ہے تو اس سے کیوں گریز ہے۔ہم لوگوں کے سامنے ہیں اور اگر فریب سے کام کر رہے ہیں تو خدا تعالیٰ ایسے عذاب سے ہلاک کرے گا کہ لوگوں کو عبرت ہو جاوے گی اور اگر یہ خدا کی طرف سے ہے اور ضرور خدا کی طرف سے ہے تو پھر دوسرے لوگ ہلاک ہو جاویں گے۔البدر جلد ۴ نمبر ۶ مورخه ۱۸ فروری ۱۹۰۵ صفحه ۶) جو شخص انسانی سلطنت میں جھوٹا دعویدار تحصیلداری یا چپڑاسی ہونے کا کرے اس کو پکڑا جاتا ہے اور سزا دی جاتی ہے پھر کیا خدا کی سلطنت میں ایسا اندھیر چل سکتا ہے؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقاويل - لاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ۔یعنی اگر یہ نبی ہمارے اوپر بعض باتیں جھوٹی بنالیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کی رگِ جان کو کاٹ دیتے۔یہ آیت صاف بیان کر رہی ہے کہ خدا تعالیٰ پر کوئی جھوٹی وحی والہام بنانے والا جلدی پکڑا جا تا اور نا کامیاب ہوکر مرتا ہے۔الحکم جلد نمبر ۹ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۰۷ ء صفحہ ۱۰) ۱۱ اگر کوئی شخص تقول علی اللہ کرے تو وہ ہلاک کر دیا جاوے گا۔خبر نہیں کیوں اس میں آنحضرت ہی کی خصوصیت رکھی جاتی ہے۔کیا وجہ کہ رسول اللہ اگر تقول علی اللہ کرے تو ان کو تو گرفت کی جاوے اور اگر کوئی اور کرے تو اس کی پرواہ نہ کی جاوے۔نعوذ باللہ اس طرح سے تو امان اُٹھ جاتی ہے۔صادق اور مفتری