تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 70

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں مایہ الامتیاز ہی نہیں رہتا۔سورة الحاقة الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۸ مورخه ۱۰/ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۵) اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے لَو تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ۔جب ایسے ایک عظیم الشان انسان کے واسطے ایسا فرمان ہے تو پھر ادنی انسان کے واسطے تو چھوٹی سی چھری کی ضرورت تھی اور کبھی کا فیصلہ ہو گیا ہوتا۔الحاکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۱۳) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہے تو تمہیں اس کے خلاف کوشش کرنے کی ضرورت نہیں خود بخود بگڑ جائے گا کیونکہ وہ فرما چکا ہے قَدْ خَابَ مَنِ افْتَری۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا الآية جو غیور خدا اپنے پیارے نبی کی نسبت فرماتا ہے کہ کو تقول عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الوَتِينَ۔اگر ہم پر افترا کرتا تو اس کی رگِ جان کاٹ دیتے تو اسے ایک مجھ سے ادنی کی کیا پر واہ تھی جس کے لئے ایک چُھری کافی تھی۔اگر میں جھوٹا ہوتا تو کبھی کا ہلاک ہو گیا تھا۔(البدر جلدے نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ ؍جون ۱۹۰۸ صفحه ۱۰،۹) یہ بات خدا کی خدائی پر داغ لگاتی ہے کہ دُنیا میں جھوٹے نبی کو وہ دائمی عزت اور قبولیت دی جائے جو سچوں کو ملتی ہے کیونکہ اس صورت میں حق مشتبہ ہو جاتا ہے اور امان اُٹھ جاتا ہے۔کیا کسی نے دیکھا کہ مثلاً ایک جھوٹا تحصیلدار سے تحصیلدار کے مقابل پر دو چار برس تک مقدمات کرتارہا اور کسی کو قید اور کسی کو رہائی دیتا رہا اور اعلیٰ افسر اس مکان پر سے گزرتے رہے مگر کسی نے اس کو نہ پکڑا نہ پوچھا بلکہ اس کا حکم ایسا ہی چلتا رہا جیسا کہ بچے کا۔سو یقیناً سمجھو کہ یہ بات بالکل غیر ممکن ہے کہ ایک نبی کی اتنی بڑی عزتیں اور شوکتیں دُنیا میں پھیل جائیں کہ کروڑ با مخلوق اس کی امت ہو جائے۔بادشاہیاں قائم ہو جا ئیں اور صدہا برس گزر جائیں اور دراصل وہ نبی جھوٹا ہو جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ایک بھی اس کی نظیر نہیں پاؤ گے۔وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقِينَ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۸۹) قرآن متقیوں کو وہ سارے امور یاد دلاتا ہے جو ان کی فطرت میں مخفی اور مستور تھے۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۷)