تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 64

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۶۴ سورة الحاقة کے وقت اس شخص پر بجلی کا حملہ ہوتا ہے تو اس صورت میں یہ قول ضرور بطور دلیل استعمال ہوگا۔کیونکہ بہت سے لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ جھوٹ بولا اور بجلی گری۔(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آوے کہ جو شخص دوکاندار ہو کر اپنی فروختنی اشیاء کے متعلق کچھ جھوٹ بولے یا کم وزن کرے یا اور کسی قسم کی خیانت کرے یا کوئی رڈی چیز بیچے تو اس پر بجلی پڑا کرے۔سواس مثال کو زیر نظر رکھ کر ہر ایک منصف کو کہنا پڑتا ہے کہ خدائے علیم و حکیم کے مُنہ سے لو تقول عَلَيْنَا کا لفظ نکلنا وہ بھی تبھی ایک برہان قاطع کا کام دے گا کہ جب دو صورتوں میں سے ایک صورت اس میں پائی جائے۔(۱) اول یہ کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس سے کوئی جھوٹ بولا ہو اور خدا نے کوئی سخت سزا دی ہو اور لوگوں کو بطور امور مشہودہ محسوسہ کے معلوم ہو کہ آپ اگر خدا پر افترا کریں تو آپ کو سزا ملے گی جیسا کہ پہلے بھی فلاں فلاں موقعہ پر سزا ملی لیکن اس قسم کے استدلال کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک وجود کی طرف راہ نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایسا خیال کرنا بھی کفر ہے۔(۲) دوسرے استدلال کی یہ صورت ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ عام قاعدہ ہو کہ جو شخص اُس پر افتر ا کرے اس کو کوئی لمبی مہلت نہ دی جائے اور جلد تر ہلاک کیا جائے۔سو یہی استدلال اس جگہ پر صیح ہے۔ورنہ کو تقول عَلَيْنَا کا فقرہ ایک معترض کے نزدیک محض دھوکا دہی اور نعوذ باللہ ایک فضول گو دوکاندار کے قول کے رنگ میں ہوگا۔جولوگ خدا تعالیٰ کے کلام کی عزت کرتے ہیں اُن کا کانشنس ہر گز اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ تو تَقَولُ عَلَيْنَا کا فقرہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا مہمل ہے جس کا کوئی بھی ثبوت نہیں۔صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا ان مخالفوں کو یہ بے ثبوت فقرہ سنانا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو نہیں مانتے اور نہ قرآن شریف کو من جانب اللہ مانتے ہیں محض لغو اور طفل تسلی سے بھی کمتر ہے۔اور ظاہر ہے کہ منکر اور معاند اس سے کیا اور کیوں کر تسلی پکڑیں گے بلکہ ان کے نزدیک تو یہ صرف ایک دعویٰ ہوگا جس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔ایسا کہنا کس قدر بیہودہ خیال ہے کہ اگر فلاں گناہ میں کروں تو مارا جاؤں کو کروڑہا دوسرے لوگ ہر روز دنیا میں وہی گناہ کرتے ہیں اور مارے نہیں جاتے۔اور کیسا یہ مکروہ عذر ہے کہ دوسرے گناہگاروں اور مفتریوں کو خدا کچھ نہیں کہتا یہ سزا خاص میرے لئے ہے۔اور عجیب تریہ کہ ایسا کہنے والا یہ بھی تو ثبوت نہیں دیتا کہ گذشتہ تجربہ سے مجھے معلوم ہوا ہے اور لوگ دیکھ چکے ہیں کہ اس گناہ پر ضرور مجھے سزا ہوتی ہے۔غرض خدا تعالیٰ کے حکیمانہ کلام کو جو د نیا میں اتمام حجت کے لئے نازل ہوا ہے۔ایسے بیہودہ طور پر خیال کرنا خدا تعالی کی پاک کلام سے ٹھٹھا اور جنسی ہے اور