تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 65
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة الحاقة قرآن شریف میں صد ہا جگہ اس بات کو پاؤ گے کہ خدا تعالیٰ مفتری علی اللہ کو ہر گز سلامت نہیں چھوڑتا اور اسی دنیا میں اس کو سزا دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے۔اربعین ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۳۰ تا ۴۳۳) خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بار بار فرماتا ہے کہ مفتری اسی دنیا میں ہلاک ہوگا بلکہ خدا کے سچے نبیوں اور مامورین کے لئے سب سے پہلی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کی تکمیل کر کے مرتے ہیں۔اور ان کو اشاعت ۲۳ دین کے لئے مہلت دی جاتی ہے اور انسان کی اس مختصر زندگی میں بڑی سے بڑی مہلت تیئیس برس ہیں کیونکہ اکثر نبوت کا ابتدا چالیس برس پر ہوتا ہے اور تئیس برس تک اگر اور عمر ملی تو گویا عمدہ زمانہ زندگی کا یہی ہے۔اسی وجہ سے میں بار بار کہتا ہوں کہ صادقوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ نہایت صحیح پیمانہ ہے اور ہر گز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو کر اور خدا پر افتر اکر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ۲۳ زمانہ نبوت کے موافق یعنی تیس برس تک مہلت پا سکے ضرور ہلاک ہوگا۔اس بارے میں میرے ایک دوست نے اپنی نیک نیتی سے یہ عذر پیش کیا تھا کہ آیت کو تَقَولَ عَلَيْناً میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں۔اس سے کیوں کر سمجھا جائے کہ اگر کوئی دوسرا شخص افتر ا کرے تو وہ بھی ہلاک کیا جائے گا۔میں نے اس کا یہی جواب دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا یہ قول محل استدلال پر ہے اور منجملہ دلائل صدق نبوت کے یہ بھی ایک دلیل ہے اور خدا تعالیٰ کے قول کی تصدیق تبھی ہوتی ہے کہ جھوٹا دعوی کرنے والا ہلاک ہو جائے ورنہ یہ قول منکر پر کچھ حجت نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے لئے بطور دلیل ٹھہر سکتا ہے بلکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تیئیس برس تک ہلاک نہ ہونا اس وجہ سے نہیں کہ وہ صادق ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ خدا پر افترا کرنا ایسا گناہ نہیں ہے جس سے خدا اسی دنیا میں کسی کو ہلاک کرے کیونکہ اگر یہ کوئی گناہ ہوتا اور سنت اللہ اس پر جاری ہوتی کہ مفتری کو اس دنیا میں سزا دینا چاہئے تو اس کے لئے نظیر یں ہونی چاہیئیں تھیں۔اور تم قبول کرتے ہو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں بلکہ بہت سی ایسی نظیریں موجود ہیں کہ لوگوں نے تیس برس تک بلکہ اس سے زیادہ خدا پر افترا کئے اور ہلاک نہ ہوئے۔تو اب بتلاؤ کہ اس اعتراض کا کیا جواب ہوگا ؟ ۲۳ (اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۳۵،۴۳۴) اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالی کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔اب اس کے مقابل یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوت کا دعوی کیا یا روشن دین جالند ہری نے دعوی کیا یا کسی اور شخص نے دعویٰ کیا اور وہ ہلاک نہیں ہوئے یہ ایک دوسری حماقت ہے جو ظاہر کی جاتی ہے۔