تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 62

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۶۲ سورة الحاقة افترا اور کفر کی طرف بلا کر ضلالت کی موت سے ہلاک کرنا چاہتا تو اس کا مرنا اس حادثہ سے بہتر ہے کہ تمام دنیا اس کی مفتر یانہ تعلیم سے ہلاک ہو اس لئے قدیم سے ہماری یہی سنت ہے کہ ہم اُسی کو ہلاک کر دیتے ہیں جو دنیا کے لئے ہلاکت کی راہیں پیش کرتا ہے اور جھوٹی تعلیم اور جھوٹے عقائد پیش کر کے مخلوق خدا کی روحانی موت چاہتا ہے اور خدا پر افتر اکر کے گستاخی کرتا ہے۔اب ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ اگر وہ ہماری طرف سے نہ ہوتا تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے اور وہ ہرگز زندہ نہ رہ سکتا گوتم لوگ اس کے بچانے کے لئے کوشش بھی کرتے۔(اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۸۹٬۳۸۸) خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ایک شمشیر برہنہ کی طرح یہ حکم فرماتا ہے کہ یہ نبی اگر میرے پر جھوٹ بولتا اور کسی بات میں افترا کرتا تو میں اس کی رگِ جان کاٹ دیتا اور اس مدت دراز تک وہ زندہ نہ رہ سکتا۔تو اب جب ہم اپنے اس مسیح موعود کو اس پیمانہ سے ناپتے ہیں تو براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ منجانب اللہ ہونے اور مکالمات الہیہ کا قریبا تیس برس سے ہے اور اکیس برس سے براہین احمدیہ شائع ہے۔پھر اگر اس مدت تک اس مسیح کا ہلاکت سے امن میں رہنا اس کے صادق ہونے پر دلیل نہیں ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس برس تک موت سے بچنا آپ کے سچا ہونے پر بھی دلیل نہیں ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ ایک جھوٹے مدعی رسالت کو تیس برس تک مہلت دی اور کو تقول علینا کے وعدہ کا کچھ خیال نہ کیا تو اسی طرح نعوذ باللہ یہ بھی قریب قیاس ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی باوجود کا ذب ہونے کے مہلت دے دی ہو مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کا ذب ہونا محال ہے۔پس جو مستلزم محال ہو وہ بھی محال۔اور ظاہر ہے کہ یہ قرآنی استدلال بدیہی الظہور جبھی ٹھہر سکتا ہے جبکہ یہ قاعدہ کلی مانا جائے کہ خدا اس مفتری کو جو خلقت کے گمراہ کرنے کے لئے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہو کبھی مہلت نہیں دیتا کیونکہ اس طرح پر اُس کی بادشاہت میں گڑ بڑ پڑ جاتا ہے اور صادق اور کاذب میں تمیز اُٹھ جاتی ہے۔(اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۹۱، ۳۹۲) قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ جو شخص خدا پر افترا کرے وہ ہلاک کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالی نے آیت کو تقول عَلَيْنَا کو بطور لغو نہیں لکھا جس سے کوئی حجت قائم نہیں ہو سکتی۔اور خدا تعالیٰ ہر ایک لغو کام سے پاک ہے۔پس جس حالت میں اس حکیم نے اس آیت کو اور ایسا ہی اُس دوسری آیت کو جس کے یہ الفاظ ہیں