تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 61

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام บ سورة الحاقة کہ ایک فاسق بسا اوقات ستر برس کی عمر پالیتا ہے بلکہ کئی دفعہ اس دنیا میں اس کو ایسے ستر برس بھی ملتے ہیں کہ خوردسالی کی عمر اور پیر فرتوت ہونے کی عمر الگ کر کے پھر اس قدر صاف اور خالص حصہ عمر کا اس کو ملتا ہے جو عقلمندی اور محنت اور کام کے لائق ہوتا ہے لیکن وہ بد بخت اپنی عمدہ زندگی کے سنہرے برس دنیا کی گرفتاریوں میں گزارتا ہے اور اس زنجیر سے آزاد ہونا نہیں چاہتا۔سو خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ وہی ستر برس جو اس نے گرفتاری دنیا میں گزارے تھے عالم معاد میں ایک زنجیر کی طرح مستمثل ہو جائیں گے جو سترگز کی ہوگی۔ہر ایک گز بجائے ایک سال کے ہے۔اس جگہ یا درکھنا چاہئے کہ خدا تعالی اپنی طرف سے بندہ پر کوئی مصیبت نہیں ڈالتا بلکہ وہ انسان کے اپنے ہی برے کام اس کے آگے رکھ دیتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۰،۴۰۹) اِنَّه لَقَولُ رَسُولِ كَرِيمٍ وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِن قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ، تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأَقاويل لاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِيْنَ یہ قرآن کلام رسول کا ہے یعنی وحی کے ذریعہ سے اُس کو پہنچا ہے۔اور یہ شاعر کا کلام نہیں مگر چونکہ تمہیں ایمانی فراست سے کم حصہ ہے اس لئے تم اس کو پہچانتے نہیں اور یہ کا ہن کا کلام نہیں یعنی اس کا کلام نہیں جو جنات سے کچھ تعلق رکھتا ہو۔مگر تمہیں تدبر اور تذکر کا بہت کم حصہ دیا گیا ہے اس لئے ایسا خیال کرتے ہو۔تم نہیں سوچتے کہ کا ہن کس پست اور ذلیل حالت میں ہوتے ہیں بلکہ یہ ربّ العالمین کا کلام ہے۔جو عالم اجسام اور عالم ارواح دونوں کا رب ہے یعنی جیسا کہ وہ تمہارے اجسام کی تربیت کرتا ہے ایسا ہی وہ تمہاری رُوحوں کی تربیت کرنا چاہتا ہے اور اسی ربوبیت کے تقاضا کی وجہ سے اُس نے اس رسول کو بھیجا ہے۔اور اگر یہ رسول کچھ اپنی طرف سے بنالیتا اور کہتا کہ فلاں بات خدا نے میرے پروحی کی ہے حالانکہ وہ کلام اس کا ہوتا نہ خدا کا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اُس کی رگِ جان کاٹ دیتے اور کوئی تم میں سے اس کو بچانہ سکتا۔یعنی اگر وہ ہم پر افترا کرتا تو اس کی سزا موت تھی کیونکہ وہ اس صورت میں اپنے جھوٹے دعوے سے