تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 60
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۰ سورة الحاقة ہے اور اسی طرح خدا کا کلام نازل ہونا اور اُس کے خارق عادت نشان ظہور میں آنار بوبیت کے تقاضا سے ہے (۲) دوم خدا کی رحمانیت جو ظہور میں آچکی ہے یعنی جو کچھ اُس نے بغیر پاداش اعمال بیشمار نعمتیں انسان کے لئے میسر کی ہیں یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے (۳) تیسری خدا کی رحیمیت ہے اور وہ یہ کہ نیک عمل کرنے والوں کو اول تو صفت رحمانیت کے تقاضا سے نیک اعمال کی طاقتیں بخشتا ہے اور پھر صفت رحیمیت کے تقاضا سے نیک اعمال اُن سے ظہور میں لاتا ہے اور اس طرح پر اُن کو آفات سے بچاتا ہے۔ یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے (۴) چوتھی صفت مَالِكِ يَوْمِ الدِّین ہے یہ بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا دیتا ہے۔ یہ چاروں صفتیں ہیں جو اُس کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں یعنی اُس کے پوشیدہ وجود کا ان صفات کے ذریعہ سے اس دنیا میں پتہ لگتا ہے اور یہ معرفت عالم آخرت میں دو چند ہو جائے گی گویا بجائے چار کے آٹھ فرشتے ہو جائیں گے۔ لا لا چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۹،۲۷۸) خُذُوهُ فَخُلُوهُ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ (۳۲) اس جہنمی کو پکڑو۔ اس کی گردن میں طوق ڈالو۔ پھر دوزخ میں اس کو جلاؤ ۔ پھر ایسی زنجیر میں جو پیمائش میں سنترے گز ہے اس کو داخل کرو۔ جاننا چاہئے کہ ان آیات میں ظاہر فرمایا ہے کہ دنیا کا روحانی عذاب عالم معاد میں جسمانی طور پر نمودار ہوگا۔ چنانچہ طوق گردن دنیا کی خواہشوں کا جس نے انسان کے سرکوزمین کی طرف جھکا رکھا تھا۔ وہ عالم ثانی میں ظاہری صورت پر نظر آ جائے گا۔ اور ایسا ہی دنیا کی گرفتاریوں کی زنجیر پیروں میں پڑی ہوئی دکھائی دے گی اور دنیا کی خواہشوں کی سوزشوں کی آگ ظاہر بھڑ کی ہوئی نظر آئے گی ۔ - فاسق انسان دنیا کی زندگی میں ہوا و ہوس کا ایک جہنم اپنے اندر رکھتا ہے اور ناکامیوں میں اس جہنم کی سوزشوں کا احساس کرتا ہے۔ پس جبکہ اپنی فانی شہوات سے دور ڈالا جائے گا اور ہمیشہ کی نا امیدی طاری ہوگی تو خدا تعالیٰ ان حسرتوں کو جسمانی آگ کے طور پر اس پر ظاہر کرے گا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ یعنی ان میں اور ان کی خواہشوں کی چیزوں میں جدائی ڈالی جائے گی اور یہی عذاب کی جڑھ ہوگی ۔ اور پھر جو فرمایا کہ سنترے گز کی زنجیر میں اس کو داخل کرو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے